مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 683 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 683

مضامین بشیر جلد سوم 683 تو بہ اس وادی کے سارے گناہ گاروں پر تقسیم کی جائے تو وہ بھی خدائی مغفرت کے حق دار بن جائیں۔( دوم ) وہ عذاب جو اس دنیا میں بھی آتا ہے اور آخرت میں بھی آتا ہے جیسا کہ اوپر کے عمومی عذاب میں ذکر ہے جو عامۃ الناس کے گناہوں کی کثرت اور اخلاقی بد کردار یوں اور بدعنوانیوں کی وجہ سے اس دنیا میں آتا ہے۔اور اگر لوگ تو بہ نہ کریں تو ایسے لوگ یقیناً آخرت میں بھی خدائی عذاب کا نشانہ بنیں گے۔( سوم ) اسی طرح ایک اور عذاب بھی ہوتا ہے جو اس دنیا میں بھی آتا ہے اور آخرت میں بھی آتا ہے۔جیسا کہ خدا کے رسولوں اور ماموروں کے سرکش منکروں اور ائمۃ الکفر اور روحانی نظام کے باغیوں پر آیا کرتا ہے۔جیسا کہ مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ابو جہل اور عتبہ اور شیبہ اور ابی اور امیہ اور عقبہ وغیرہ پر آیا کہ وہ اس دنیا میں بھی ذلت کی موت مارے گئے اور آخرت میں بھی ان کے لئے جہنم کی آگ مقدر ہے۔یا جیسا کہ اس زمانہ میں حضرت مسیح ناصری کے جھوٹے نمائندہ اور ہمارے رسول پاک کے ناپاک دشمن ڈوئی کا امریکہ میں انجام ہوا جس نے مسیح محمدی کے مقابل پر کھڑے ہو کر اسلام کی تباہی کی پیشگوئی کی تھی مگر پھر وہ آپ کی زندگی میں ذلت کی موت مرکز ختم ہو گیا۔یا جیسا کہ پنڈت لیکھرام آریہ لیڈر پر عذاب آیا جس کی انتہائی دین حق ) دشمنی اور بد زبانی کی وجہ سے مقدس بانی سلسلہ احمدیہ نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ وہ چھ سال کے اندر اندر گوسالہ سامری کی طرح ہلاک کیا جائے گا اور فرمایا تھا کہ : الا اے دشمن نادان و بے راہ بنترس از تیغ بران (چہارم ) وہ عذاب جو اس دنیا میں نہیں آتا بلکہ صرف آخرت میں آتا ہے۔یہ وہ عذاب ہے جو خدائی ماموروں اور رسولوں کے عام منکروں کے لئے مقدر ہوتا ہے جو ایک روحانی مصلح کی آواز سننے اور عمومی رنگ میں اتمام حجت ہونے کے باوجود انکار پر قائم رہتے ہیں اور حبل اللہ کو نہیں پکڑتے جولوگوں کی اخروی نجات کے لئے آسمان سے نازل کیا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔اس کے علاوہ خدائی عذاب کی بعض اور بھی اقسام ہیں مگر اس جگہ مجھے اس بحث میں پڑنے کی ضروت نہیں۔بہر حال موجودہ غیر معمولی سیلاب اور ان کی غیر معمولی تباہ کاری اور ان کا غیر معمولی تسلسل ایک غیب کی انگلی ہے جولوگوں کی اخلاقی اصلاح کے لئے اٹھائی گئی ہے۔اس قسم کے عذاب میں کسی مامور من اللہ کے انکار کا دخل نہیں اور نہ ہی تبدیلی مذہب کا کوئی سوال ہوتا ہے۔بلکہ یہ تباہ کاری صرف عامتہ الناس کو ان کے اخلاقی جرائم اور بدکرداریوں پر ہوشیار کرنے کے لئے واقع ہوتی ہے۔بدقسمی سے آج کل لوگوں کا اخلاق اور لوگوں کا کردار