مضامین بشیر (جلد 3) — Page 677
مضامین بشیر جلد سوم 677 (دوم) جذبات ( یعنی Emotions ) پر کنٹرول بہت کمزور ہو گیا ہے جس کے نتیجہ میں اکثر جذباتی باتوں پر حضور کو رقت آجاتی اور آواز بھر جاتی ہے۔اور ایسے جذبات جن کو حضور نے اپنی قوت ضبط سے لمبے عرصہ سے اپنے دل میں دبا رکھا تھا اُبھر اُبھر کر باہر آرہے ہیں۔مثلاً آج کل حضور قادیان کو بے حد یاد کرتے ہیں اور وہاں جانے کی شدید آرزور کھتے ہیں۔اسی طرح حضرت اماں جان نوراللہ مرقدہ اور بعض وفات یافتہ بزرگوں اور دوستوں اور عزیزوں کو بھی بہت یاد کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔اس کے علاوہ جسمانی کمزوری بھی دن بدن بڑھ رہی ہے اور خصوصا بایاں ہاتھ بہت کمزور ہو گیا ہے اور آج کل چلنے پھرنے سے عملاً معذور ہو چکے ہیں اور اس کے لئے دل میں رغبت بھی نہیں پیدا ہوتی اور غذا بھی بہت کم ہو گئی ہے۔لیکن خدا کے فضل سے اب بھی دینی کاموں اور خصوصاً تبلیغی معاملات میں بے حد دلچپسی لیتے ہیں اور ملاقات کے وقت متعلقہ اصحاب سے خود سوال کر کر کے تبلیغی امور کے متعلق دریافت فرماتے رہتے ہیں۔اور اس کمزوری کے باوجود روزانہ چند منٹ کے لئے تفسیر کبیر کے نوٹ بھی سنتے اور مناسب موقع پر اصلاح فرماتے ہیں اور دنیا میں اسلام اور صداقت کی اشاعت کا بے پناہ جذ بہ رکھتے اور اسے بار بار ظاہر فرماتے ہیں۔اور کبھی کبھی صدر انجمن احمدیہ کے ناظروں اور تحریک جدید کے وکیلوں کو بعض مختصر سے کاغذات کے پیش کرنے کا موقع بھی مل جاتا ہے۔لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ دن بدن حضور کی صحت اور جسمانی طاقت گرتی چلی جاتی ہے اور ڈاکٹری لحاظ سے حالت قابل فکر ہے۔اور حق یہ ہے کہ گو اس وقت ڈاکٹروں کے مشورہ سے حضور کو کراچی لے جایا جا رہا ہے مگر ہمارا دل خائف ہے کہ اللہ تعالیٰ خیریت سے لے جائے اور خیریت سے لائے۔بعض دوست اپنے اخلاص میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض الہامات لکھ کر یا اپنی بعض خواہیں بیان کر کے امید کے پہلو کو غالب اور نمایاں کر کے دکھانا چاہتے ہیں یہ ان کے محبت واخلاص کا دلکش مظاہرہ ہے اور خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔(اور مومنوں کا بہر حال فرض ہے کہ وہ امید کا دامن نہ چھوڑیں) لیکن ایسے دوستوں کو یا درکھنا چاہئے کہ الہاموں اور خوابوں کی حقیقی تعبیر صرف خدا ہی جانتا ہے اس لئے دعاؤں میں ہرگز ہرگز غافل نہیں ہونا چاہئے۔میں خیال کرتا ہوں کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ نے اپنی پینتالیس سالہ قیادت میں جس غیر معمولی رنگ میں جماعت کو سنبھالا اور ترقی دی ہے اور پھر اس طویل عرصہ میں جس غیر معمولی رنگ میں خدا تعالیٰ نے قدم قدم پر حضور کی نصرت فرمائی ہے وہ ایک معجزہ سے کم نہیں۔پس اس وقت جب کہ یہ مظفر و منصور انسان ایک تشویشناک بیماری میں مبتلا ہو کر بستر علالت پر پڑا ہے جماعت کے