مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 676 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 676

مضامین بشیر جلد سوم 45 حضرت خلیفتہ المسیح کے لئے دعا کی تحریک هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانَ 676 حضرت خلیفہ المسی الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی بیاری کے متعلق احباب جماعت کو اخبار الفضل کے ذریعہ روزانہ اطلاع پہنچ رہی ہے۔مگر کچھ عرصہ ہوا یہ محسوس کیا گیا تھا کہ یہ مختصر سی اطلاع جماعت کی تسلی کے لئے کافی نہیں ہوتی۔چنانچہ جماعت کا ایک حصہ تو اس غلط فہمی میں مبتلا ہورہا تھا کہ خدا کے فضل سے حضرت صاحب کی حالت تسلی بخش ہے اور کوئی فکر کی بات نہیں۔اور دوسرا حصہ یہ محسوس کر رہا تھا کہ حضور کی صحت کی اصل حقیقت کو جماعت سے چھپایا جا رہا ہے۔ان حالات میں میں نے عزیز ڈاکٹر مرزا منور احمد سلمہ کو مشورہ دیا کہ وہ ایک مفصل بیان کے ذریعہ جماعت کو صیح صحیح حالت سے مطلع کرنے کی کوشش کریں تا ایک طبقہ کی غلط فہمیاں دور ہو جائیں اور جماعت کو دعاؤں کی طرف بیش از پیش توجہ پیدا ہو۔چنانچہ عزیز مرزا منور احمد نے ( خدا انہیں جزائے خیر دے انہوں نے حضور کی موجودہ بیماری میں بے حد محنت اور محبت سے کام کیا ہے ) ایک مفصل بیان لکھ کر مجھے دکھانے کے بعد الفضل میں شائع کرا دیا اور اس کے ذریعہ جماعت کافی حد تک حضور کی بیماری کی اصل حقیقت سے آگاہ ہوگئی اور مجھے یقین ہے کہ جماعت کے مخلصین نے زیادہ توجہ اور زیادہ درد والحاح کے ساتھ دعائیں شروع کر دی ہوں گی۔اب حضور کو ڈاکٹری مشورہ کے ماتحت علاج کی غرض سے کراچی لے جانے کی تجویز ہے بلکہ اغلب ہے کہ اس نوٹ کے چھپنے تک حضور کراچی روانہ ہو چکے ہوں گے یا پہنچ چکے ہوں گے۔دوستوں کو خاص توجہ سے دعا کرنی چاہئے کہ ہمارا رحیم و کریم آسمانی آقا اپنے فضل و کرم سے حضور کے اس سفر کو مبارک کرے اور حضور کو شفایاب کر کے مرکز سلسلہ میں واپس لائے۔آمِينَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ۔مگر میں اس نوٹ کے ذریعہ جماعت کو پھر ہوشیار کرنا چاہتا ہوں کہ حضور کی بیماری اور موجودہ حالت حقیقتا تشویشناک ہے۔اس بیماری میں حضور کے نظام عصبی کو کافی دھکا لگ چکا ہے جو جیسا کہ عزیز مرزا منور احمد نے لکھا تھا عموماً دوصورتوں میں ظاہر ہوا ہے۔(اول ) حضور کا حافظہ جہاں تک قریب کے زمانہ کی باتوں کا تعلق ہے بہت کمزور ہو چکا ہے اور مرض نسیان کا غلبہ ہے جس کی وجہ سے حضور ایک بات کو دہراتے اور بار بار پوچھتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں۔البتہ دور کے زمانہ میں گزری ہوئی باتیں بالعموم ذہن پر مستحضر رہتی ہیں۔