مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 662 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 662

مضامین بشیر جلد سوم 662 بھیجوائی گئی ہے۔اس کی نقل بیرونی جماعتوں کے فائدہ کے لئے الفضل میں شائع کی جارہی ہے۔ایڈیٹر ) گومرکز ہونے کی وجہ سے ربوہ میں غریبوں اور حاجت مندوں اور نادار طالب علموں اور یتیموں اور بیواؤں وغیرہ کی تعداد واقعی بہت زیادہ ہے لیکن پھر بھی میں محسوس کرتا ہوں کہ کچھ عرصہ سے یہاں بعض لوگوں میں سوال کرنے کی عادت بڑھ رہی ہے۔اور بعض محلوں کے صدر صاحبان بھی ایسی درخواستوں پر سفارش کرنے میں غیر محتاط نظر آتے ہیں۔یہ دونوں باتیں اسلامی تعلیم کے خلاف اور قومی اخلاق کو بگاڑنے والی ہیں۔بے شک قرآن مجید یہ فرماتا ہے کہ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّائِل وَالْمَحْرُوم (الذاريات: 20) یعنی مومنوں کے اموال میں سوال کرنے والوں کا بھی حق ہے اور ان لوگوں کا بھی حق ہے جو مال سے تو محروم ہیں لیکن پھر بھی سوال کرنے سے اجتناب کرتے ہیں۔مگر دوسری طرف حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تاکید فرماتے ہیں الْيَدُ العُليا خَيْرٌ مِّنَ الْيَدِ السُّغُلی یعنی اوپر والا ہاتھ جو سوال کرنے سے بچتا ہے اور اپنے آپ کو اونچا رکھتا ہے وہ نیچے والے ہاتھ سے جو سوال کے لئے پھیلتا رہتا ہے خدا کی نظر میں بہتر ہے۔علاوہ ازیں اس حدیث میں الید العلیا سے دینے والا ہاتھ بھی مراد ہے۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کرنے والے کی حاجت کو پورا کرنا بڑے ثواب کا موجب قرار دیا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ اسلام مسلمانوں کو ہر دو انتہاؤں سے بچا کر أُمَّةً وَسَطاً یعنی ایک متوازن جماعت بنانا چاہتا ہے۔پس میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ حقیقی اور اشد ضرورت کے بغیر کبھی سوال نہ کیا کریں بلکہ ایک طرف محنت کر کے حسب ضرورت زیادہ آمد پیدا کرنے کی کوشش کریں اور ستی اور بے کاری سے بچیں اور دوسری طرف جب تک خدا کی طرف سے فراخی نہ حاصل ہوا اپنی ضروریات کو کم سے کم حد کے اندر محدود رکھیں۔اس طرح انشاء اللہ ان کے اخلاق میں بلندی پیدا ہوگی اور اس قناعت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے تھوڑے مال میں ہی برکت ڈال دے گا۔اسی طرح میں صدر صاحبان اور سیکرٹری صاحبہ لجنہ اماءاللہ ربوہ کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ ہر درخواست پر یونہی سفارش نہ کر دیا کریں بلکہ سوال کرنے والے کی ضرورت اور حالات کا پوری طرح جائزہ لے کر صرف حقیقی ضرورت کی صورت میں سفارش کیا کریں۔اور بصورت دیگر امداد کی درخواست کرنے والے کونرمی کے ساتھ سمجھا دیا کریں کہ صبر اور قناعت سے کام لیں۔تا کہ بلاضرورت سوال کرنے کی عادت