مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 660 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 660

مضامین بشیر جلد سوم 660 بالآخر میں جماعت احمدیہ کراچی سے بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ یہ زندگی عارضی ہے اور ہر انسان نے بہر حال جلد یا بدیر مرنا ہے۔مگر ترقی کرنے والی جماعتوں کا یہ کام ہوتا ہے کہ جب ان میں سے کوئی فرد وفات پاتا ہے تو وہ اس کی وفات کی وجہ سے جماعت میں کسی قسم کا خلانہیں پیدا ہونے دیتے۔بلکہ اگر ایک شخص مرتا ہے تو اس کی جگہ لینے کے لئے ( نام کی جگہ نہیں بلکہ حقیقی قائم مقامی کے لئے ) اس کام کے آدمی پیدا ہو جاتے ہیں۔پس جماعت کراچی کا اس موقع پر اولین فرض ہے کہ وہ اس ترقی کے مقام میں ہر گز کمی نہ آنے دیں۔جس پر وہ اس وقت خدا کے فضل سے پہنچ چکی ہے۔اسے یادرکھنا چاہئے کہ دینی جماعتوں کی ترقی کی بنیا دایمان اور عمل صالح کے بعد اصولا چار باتوں پر ہوتی ہے۔یعنی اول اخلاص دوسرے قربانی تیسرے تنظیم اور چوتھے اتحاد۔پس جب کہ خدا کے فضل سے کراچی کی جماعت کو یہ چار باتیں بصورت احسن حاصل ہو چکی ہیں تو ان کا فرض ہے کہ اس مقدس چار دیواری کو نہ صرف قائم رکھیں بلکہ اسے بلند سے بلند تر کرتے چلے جائیں۔جماعتوں کی زندگی میں سکون بالکل نہیں ہوا کرتا بلکہ یا تو وہ ترقی کرتی ہیں اور یا گر جاتی ہیں۔جو جماعت ان چار باتوں میں ترقی نہیں کر رہی وہ سمجھ لے کہ وہ خواہ محسوس کرے یا نہ کرے وہ یقیناً گر رہی ہے۔اور اگر خدانخواسته و نہ سنبھلی تو اس کا تنزل عنقریب نمایاں ہو کر ظاہر ہو جائے گا جس سے خدا کی پناہ مانگنی چاہئے۔ایک اور بات جو جماعت کو یاد رکھنی چاہئے وہ مستورات اور اولاد سے تعلق رکھتی ہے۔اگر کوئی جماعت اپنی مستورات کی تربیت کا خیال نہیں رکھتی اور اپنی آئندہ نسل کی تربیت کی طرف سے بھی غافل ہے تو وہ جان لے کہ وہ خود اپنی موت کو قریب لا رہی ہے۔جو اسے اگلی نسل میں یقیناً آدبوچے گی۔پس میری نصیحت یہی ہے کہ کراچی کے دوست جماعتی ترقی کی اس چاردیواری کو مضبوطی کے ساتھ برقرار رکھیں یعنی اخلاص اور قربانی اور تنظیم اور اتحاد کے اعلیٰ مقام پر قائم رہیں۔اور پھر اپنی ترقی کو دائمی بنانے کے لئے اگلی نسل کی فکر بھی کریں جس کے لئے مستورات اور نو جوانوں کی تنظیم اور تربیت کی طرف خاص توجہ ضروری ہے۔بلکہ مستورات کی تربیت کا تعلق تو صرف اگلی نسل کے ساتھ ہی نہیں بلکہ موجودہ نسل کے آدھے دھڑ کے ساتھ بھی ہے۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ احباب کراچی کے ساتھ ہو اور ان کا حافظ و ناصر رہے۔اور ان کو اپنے فضل سے ایسا گڈریا عطا فرمائے جو چوہدری عبداللہ خان صاحب مرحوم کا اچھا قائم مقام ثابت ہو۔آمِيْنَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ (محرره 29 جون 1959 ء ) روزنامه الفضل ربوہ 4 جولائی 1959ء)