مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 46 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 46

مضامین بشیر جلد سوم 46 ہیں۔ظاہری اور پہلی علامت تو یہ ہے کہ مومنوں کی جماعت کسی شخص کو کثرت رائے سے خلیفہ منتخب کرے۔کیونکہ غیر مامور خلافت کے لئے یہ ضروری شرط ہے کہ خواہ حقیقی تقر ر خدا کے ہاتھ میں ہوتا ہے لیکن ظاہر میں (بقیہ حاشیہ صفحہ 45) حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے موقف کی تائید میں حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب نے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الوصیت سے اقتباس یوں بیان فرمایا۔(مرتب) خلافت عارضی ہے یا مستقل۔اس عنوان کے ماتحت الفضل مورخہ 3 اپر میل میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کا ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں حضور نے اس خیال کی تردید فرمائی ہے کہ خلافت کے بعد ملوکیت مستبدہ کا پایا جانا لازمی ہے۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد تمیں سال تک خلافت رہی پھر اس کی جگہ ملوکیت آ گئی بلکہ خلافت کا سلسلہ دائمی بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی خلافت اب تک چلی آرہی ہے۔حضرت خلیفتہ اسیح ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مضمون میں جو نظریہ پیش فرمایا ہے اس کی تائید حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مندرجہ ذیل حوالہ سے بھی ہوتی ہے۔حضرت اقدس علیہ السلام فرماتے ہیں۔سواے عزیزو! جبکہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلا دے۔سواب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت ترک کر دیوے۔اس لئے تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی عملین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں۔کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے۔جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہو گا۔اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک میں نہ جاؤں۔لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی۔الوصیت روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 305) اور اس سے قبل حضرت اقدس علیہ السلام نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی مثال پیش کر کے تصریح فرما دی ہے کہ قدرت ثانیہ سے مراد خلافت ہے۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا ذکر کر کے فرماتے ہیں۔