مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 655 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 655

مضامین بشیر جلد سوم 655 فرماتا ہے اور بعض مقامات پر دلالت النص کے طور پر اور بعض جگہ اشارت النص کے رنگ میں صراحت کرتا ہے۔کہ اس نوع کی بیماریاں انبیاء کی شان کے خلاف ہیں۔اور ان کے فرائض کی ادائیگی میں روک بن سکتی ہیں اس لئے ایسی بیماریاں نبیوں کو نہیں ہوا کرتیں۔چنانچہ جنون کی بیماری کے متعلق خدا تعالی قرآن مجید میں تمام رسولوں کے بارے میں اصولی طور پر فرماتا ہے: كَذلِكَ مَا أَتَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا قَالُوا سَاحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ (الذاريات : 53) اور دوسری جگہ مخصوص طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرماتا ہے: وَمَا صَاحِبُكُمُ بمَجْنُون (التكوير: 23) اور ایک اور جگہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تعلق میں مخالفوں کی شرارت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: إِنَّ رَسُولَكُمُ الَّذِى أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ لَمَجْنُونٌ (الشعراء: 28) یعنی اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کوئی رسول بھی تیرے زمانہ سے پہلے ایسا نہیں آیا جسے دشمنوں نے ساحر یا مجنون کہہ کر اپنے دل کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش نہ کی ہو۔اور اے عرب کے لوگو! کیا تم آنکھیں رکھتے ہوئے دیکھتے نہیں کہ ہمارا یہ رسول خدا کے فضل سے دیوانہ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔اور حضرت موسیٰ کے مخالفوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ از راہ شرارت یہ افتراء باندھا کرتے تھے کہ یہ شخص جو رسالت کا مدعی بنتا ہے یہ تو مجنون ہے وغیرہ وغیرہ۔اسی طرح اور بہت سے مقامات پر قرآن مجید میں نبوت اور جنون کو متضاد بیان کر کے اس کی زور دارنفی کی گئی ہے تو پھر نا معلوم ہمارے ان دوست کو میرے مضمون میں جنون کا رخنہ کس طرح نظر آ گیا؟ اور پھر مزید تعجب یہ ہے کہ انہوں نے طبی اور طبعی قوانین کے ماتحت بھی غور نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جیسی حکیم و علیم ہستی کس طرح نبوت جیسا اور ارفع اور اعلیٰ منصب ایک دیوانہ کے سپرد کر سکتی ہے؟ یہی اصول مرگی جیسے مرض پر چسپاں ہوتا ہے۔جس میں بعض اوقات ایک حد تک جنون سے ملتی جلتی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔اس لئے جب ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو رویا میں دکھایا گیا کہ ایک کر یہ المنظر شیطان سیرت جانور آپ کی طرف آرہا ہے اور آپ کے دل میں ڈالا گیا کہ یہ صرع یعنی مرگی کا مرض ہے تو آپ نے خدائی القاء کے ماتحت بڑے جوش اور نفرت کے ساتھ فرمایا کہ: دور ہو تیرا مجھ میں حصہ نہیں“ ( تذکره صفحه 685 وصفحہ 14)