مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 651 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 651

مضامین بشیر جلد سوم کو پاٹ دیا تا کہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔651 بالآخر یہ سوال رہ جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو خدا تعالیٰ کے ایک عالی شان نبی بلکہ افضل الرسل اور خاتم النبین تھے آپ کو نسیان کا عارضہ کیوں لاحق ہوا جو بظاہر فرائض نبوت کی ادائیگی میں رخنہ انداز ہوسکتا ہے۔تو اس کے جواب میں اچھی طرح یا د رکھنا چاہئے کہ ہر نبی کی دوہری حیثیت ہوتی ہے۔ایک پہلو کے لحاظ سے وہ خدا کا نبی اور رسول ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ خدا کے کلام سے مشرف ہوتا ہے اور دینی امور میں اپنے متبعین کا استاد قرار پاتا اور ان کے لئے اسوہ بنتا ہے۔اور دوسرے اس پہلو کے لحاظ سے وہ انسانوں میں سے ایک انسان ہوتا ہے اور تمام ان بشری لوازمات اور طبعی خطرات کے تابع ہوتا ہے جو دوسرے انسانوں کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ: قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ - یعنی اے رسول! تو لوگوں سے کہہ دے کہ میں تمہاری طرح کا ایک انسان ہوں ( اور تمام ان قوانین کے تابع ہوں جو دوسرے انسانوں کے ساتھ لگے ہوئے ہیں) ہاں میں یقیناً خدا کا ایک رسول بھی ہوں اور خدا کی طرف سے مخلوق خدا کی ہدایت کے لئے وحی والہام سے نواز گیا ہوں۔اس لطیف آیت میں انبیاء کی دوہری حیثیت کو نہایت عمدہ طریق پر بیان کیا گیا ہے۔یعنی انہیں ایک جہت سے دوسرے انسانوں سے ممتاز کیا گیا ہے اور دوسری جہت سے ان کو دوسرے انسانوں کی صف سے باہر نہیں نکلنے دیا گیا۔پس جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ انبیاء، بشری لوازمات اور انسان کے طبعی خطرات سے بالا ہوتے ہیں وہ جھوٹا ہے۔یقیناً انبیاء بھی اسی طرح بیمار ہوتے ہیں جس طرح کہ دوسرے انسان بیمار ہوتے ہیں۔وہ ملیر یا بخار، ٹائیفائڈ (ضمناً یا د رکھنا چاہئے کہ جہاں تک ظاہری علامات مندرجہ حدیث و تاریخ سے پتہ چلتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مرض ٹائیفائڈ سے فوت ہوئے تھے ) سل ، دق، دمہ، نزلہ، کھانسی، نقرس، دورانِ سر، پھوڑے پھنسیاں، آنکھوں کا آشوب، جسم کے درد ، جگر کی بیماری ، اسہال کی بیماری، انتڑیوں کی بیماری، گردے کی بیماری، پیشاب کی بیماری، دانتوں کی تکلیف، اعصابی تکلیف، ذکاوت حس ، گھبراہٹ اور بے چینی ، دماغی کوفت ، نسیان ، حوادث کے نتیجہ میں چوٹیں اور زخم ، لڑائی کی ضربات وغیرہ وغیرہ سب کی زد میں آسکتے ہیں اور آتے رہے ہیں۔سوائے اس کے کسی خاص نبی کو خدا کی طرف سے استثنائی طور پر کسی خاص بیماری سے حفاظت کا وعدہ ہو۔اگر اس جگہ کسی کو یہ خیال گزرے کہ قرآن تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرماتا ہے کہ سنقر تک فلائنسی ( یعنی ہم تجھے