مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 650 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 650

مضامین بشیر جلد سوم 650 کنوئیں کو پاٹ دیا گیا۔اور بالواسطہ طور پر اس کے نتیجہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت کا یہ فکر بھی کہ یہ لوگ اس قسم کی شرارتیں کر کے سادہ مزاج لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں زائل ہو گیا اور یہ خدائی وعدہ بڑی آب و تاب کے ساتھ پورا ہوا کہ: لَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْتَ اتى یعنی ایک ساحر خواہ کوئی سا طریق اختیار کرے وہ خدا کے ایک نبی کے مقابل پر کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔بہر حال اوپر والی حدیث سے ذیل کی باتیں ثابت ہوتی ہیں : (1) یہ کہ صلح حدیبیہ کے واقعہ کے بعد جس کی وجہ سے طبعا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں کی لغزش کے خیال سے کافی فکرمند تھے اور انہی ایام میں آپ نے دردوں کے دفعیہ کی غرض سے اپنے سر مبارک پر سینگیاں بھی لگوائی تھیں۔آپ کچھ عرصہ کے لئے نسیان کی مرض میں مبتلا ہو گئے تھے اور آپ کئی دنیوی باتیں جو گھریلو معاملات سے تعلق رکھتی تھیں بھول جاتے تھے۔(2) آپ کی اس حالت کو دیکھ کر یہودیوں اور منافقوں نے جو ہمیشہ ایسی باتوں کی آڑ لے کر اسلام اور مقدس بانی اسلام کو بدنام کرنا چاہتے تھے یہ خفی چر چا شروع کر دیا کہ ہم نے نعوذ باللہ مسلمانوں کے نبی پر جادو کر دیا ہے۔ان کا یہ چرچا ایسا ہی تھا جیسا کہ انہوں نے غزوہ بنی مصطلق میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے حضرت عائشہ کو بدنام کرنا شروع کر دیا تھا اور اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تلخ کرنے کی ناپاک کوشش کی تھی۔(3) اس مزعومہ سحر کی ظاہری علامت کے طور پر تاکہ سادہ طبع لوگوں کو زیادہ آسانی سے دھوکا دیا جا سکے ان خبیث فطرت لوگوں نے ایک یہودی النسل منافق لبید بن اعصم کے ذریعہ اپنے طریق کے مطابق ایک کنگھی میں کچھ بالوں کی گر میں باندھ کر اسے ایک کنوئیں میں دبا دیا اور مخفی گپ بازی شروع ہوگئی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مزید پریشانی کا موجب ہوئی۔(4) اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کی حضور گھبراہٹ اور اضطراب کے ساتھ دعائیں کیں کہ خدایا تو اپنے فضل سے اس فتنہ کا سد باب فرما اور مجھ پر اس کی حقیقت کو کھول دے تا کہ میں اس فتنہ کا ازالہ کر کے سادہ مزاج لوگوں کو ٹھوکر سے بچا سکوں۔(5) خدا تعالیٰ نے آپ کی ان دعاؤں کو سنا اور لبید بن اعصم کی شرارت کا پول کھول دیا۔جس پر آپ چند گواہوں کی معیت میں اس کنوئیں پر تشریف لے گئے اور اس کنگھی کو سپر د خاک کر دیا بلکہ کنوئیں تک