مضامین بشیر (جلد 3) — Page 649
مضامین بشیر جلد سوم 649 ہے؟ دوسرے نے جواب دیا وہ ذروان کے کنوئیں میں رکھی ہے۔اس خواب کے بعد آپ اپنے بعض صحابہ کے ساتھ اس کنوئیں پر تشریف لے گئے اور اس کا معائنہ فرمایا۔اس پر کھجوروں کے کچھ درخت اُگے ہوئے تھے ( یعنی وہ اندھیرا سا کنواں تھا ) پھر آپ حضرت عائشہ کے پاس واپس تشریف لائے اور ان سے فرمایا۔عائشہ! میں اسے دیکھ آیا ہوں۔اس کنوئیں کا پانی مہندی کے پانی کی طرح سرخی مائل ہورہا ہے۔( یہودیوں کا طریق تھا کہ لوگوں کی نظروں کو دھوکا دینے کے لئے ایسے کنوئیں کے پانی کو رنگ دیتے تھے ) اور اس کے کھجور کے درخت تھوہر کے درختوں کی طرح مکر وہ نظر آتے تھے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ سے عرض کیا آپ نے اس کنگھی و غیرہ کو باہر نکلوا کر پھینک کیوں نہ دیا؟ آپ نے فرمایا۔خدا نے مجھے محفوظ رکھا اور مجھے شفا دے دی تو پھر میں اسے باہر پھینک کر لوگوں میں ایک بُری بات کا چرچا کیوں کرتا (جس سے کمزور طبیعت کے لوگوں میں سحر کی طرف خوانخواہ توجہ پیدا ہونے کا اندیشہ تھا ) پس اس کنوئیں کو دفن کر کے بند کروا دیا گیا ہے۔“ یاد رکھنا کہ حکایت عن الغیر (یعنی گفته آید در حدیث دیگراں ) کا طریق کلام عربوں میں عام رائج تھا بلکہ خود قرآن مجید نے بھی بعض جگہ اس طرز کلام کو اختیار کیا ہے۔چنانچہ ایک جگہ دوزخیوں کو مخاطب کر کے خدا تعالیٰ فرماتا ہے: ذُقُ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ (الدخان :50) یعنی اے جہنم میں ڈالے جانے والے شخص ! تو خدا کے اس عذاب کو چکھ بے شک تو بہت عزت والا اور بڑا شریف انسان ہے۔اس جگہ یہ مراد ہر گز نہیں کہ نعوذ باللہ خدا دوزخیوں کو معزز اور شریف خیال کرتا ہے۔بلکہ حکایت عن الغير کے رنگ میں مراد یہ ہے کہ اے وہ انسان جسے اس کے ساتھی اور وہ خود معزز اور شریف خیال کرتے تھے تو اب خدا کے آگ کے عذاب کا مزہ چکھ۔بعینہ یہی رنگ اس رویا میں ان دو آدمیوں یا دو فرشتوں نے اختیار کیا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس رویا میں نظر آئے تھے۔چنانچہ انہوں نے جب یہ کہا کہ اس شخص کو سحر کیا گیا ہے تو ان کی مراد یہ نہیں تھی کہ ہمارے خیال میں سحر کیا گیا ہے مگر مراد یہ تھی کہ لوگ کہتے ہیں اسے سحر کیا گیا ہے۔اور خواب کی اصل غرض و غایت اس کے سوا کچھ نہیں تھی کہ جو چیز ان خبیثوں نے چھپا کر ایک کنوئیں میں رکھی ہوئی تھی اور اس کے ذریعہ وہ اپنے ہم مشرب لوگوں کو دھوکا دیتے تھے اسے خدا اپنے رسول پر ظاہر کر دے تا ان کے اس مزعومہ سحر کو ملیا میٹ کر دیا جائے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ ان کے سحر کا آلہ سپر د خاک کر دیا گیا اور