مضامین بشیر (جلد 3) — Page 641
مضامین بشیر جلد سوم 641 علیہ وسلم نے اسے بھاری ثواب کا موجب قرار دیا۔لیکن اگر کسی صاحب نے ائمہ فقہ کا مذہب اور ان کی اصطلاح میں بھی اس مسئلہ کا مطالعہ کرنا ہو تو اس کے لئے ذیل کے دو مختصر سے حوالے کافی ہونے چاہئیں۔کتاب الفقه علی المذاہب الاربعة طبع مصری جلد نمبر 1 صفحہ 594،593 میں مرقوم ہے۔ترجمہ۔یعنی عید الاضحی کی قربانیوں کی مشروعیت پر تمام مسلمانوں کا اجتماع ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ عام ائمہ فقہ کے نزدیک تو عید الاضحی کی قربانی ایک سنتِ مؤکدہ ہے لیکن حنفی اماموں کا فتویٰ ہے کہ وہ محض سنت نہیں بلکہ واجب ہے۔اور بہر صورت اس کی شرط یہ ہے کہ انسان مالی لحاظ سے اس کی طاقت رکھتا ہو اور ترمذی کے حاشیہ پر لکھا ہے کہ اخـتـلـفـوا ان الاضحية واجبة أو سنة فذهب ابو حنيفة وصاحباه الى أنها واجبة عـلـى كــل حرّ مسلم مقيم موسرو عند الشافعى سنة مؤكدة وهو المشهور في مذهب مالك انها سنة واجبة على من استطاعھا۔(حاشیہ ترندی) یعنی اس بات میں اختلاف ہوا ہے کہ عید الاضحیٰ کی قربانی واجب ہے یا کہ سنت۔امام ابوحنیفہ اور ان کے دو ساتھیوں امام ابو یوسف اور امام محمد کا مذہب یہ ہے کہ ہر آزاد مقیم صاحب استطاعت مسلمان پر قربانی واجب ہے مگر امام شافعی کے نزدیک واجب نہیں بلکہ سنتِ مؤکدہ ہے۔اور یہی مشہور مذہب امام احمد کا ہے اور امام مالک کے نزدیک عید کی قربانی کرنے والے کو اگر اس کی طاقت ہو تو یہ سنتِ واجبہ ہے۔ان دو حوالوں سے ظاہر ہے کہ حنفی اماموں کے نزدیک (اور مغربی پاکستان میں قریباً نوے فیصد حنفی اصحاب ہی ہیں ) عید الاضحی کی قربانی ہر طاقت رکھنے والے مسلمان پر واجب ہے اور قریباً یہی مذہب امام مالک کا ہے۔مگر دوسرے دو اماموں کے نزدیک وہ واجب تو نہیں مگر سنت مؤکدہ ضرور ہے۔یعنی وہ ایسی سنت ہے جس کے متعلق شارع اسلام نے اپنے قول اور فعل کے ذریعہ خاص تاکید فرمائی ہے۔بس اس سے زیادہ مجھے اس مسئلہ میں فقہی لحاظ سے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔وَ حَسْبُكَ مَا قَالَ اللهُ وَالرَّسُولَ - وَلَا جَرَمَ أَنَّهُ هُوَ الْقَوْلُ الْمَقْبُول - (ماہنامہ الفرقان ربوہ جون، جولائی 1959ء)