مضامین بشیر (جلد 3) — Page 640
مضامین بشیر جلد سوم 640 ہوا تھا اس لئے اس جگہ نحر یعنی قربانی کے لفظ میں حج کی قربانی مراد نہیں سمجھی جائے گی بلکہ عام قربانی مراد سمجھی جائے گی جس کا سب سے وسیع موقع عید الاضحیٰ کے ایام ہیں اور میں بتا چکا ہوں کہ عید الاضحی کا دوسرا نام يوم النحر بھی ہے۔اس کے علاوہ دوسری جگہ حج کے احکام کی ضمن میں قرآن شریف فرماتا ہے کہ فَإِنْ أَحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدَى (البقره: 197) یعنی اے مسلمانو! اگر تم کسی مجبوری کے نتیجہ میں حج سے روک دیئے جاؤ تو تمہیں چاہئے کہ اس کے کفارہ کے طور پر قربانی خدا کے رستہ میں دو۔اب بے شک یہ آیت بظاہر ان کے لئے ہے جو حج کے ارادے سے نکلیں اور پھر رستہ میں کسی مجبوری ( مثلاً بیماری یا دشمن کے روکنے یا زادِ راہ کے ضائع ہو جانے وغیرہ کی وجہ سے حج کی تکمیل سے روک دیئے جائیں) مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انتہا درجہ نکتہ رس طبیعت نے غالباً اس قرآنی آیت میں بھی یہ اشارہ سمجھا کہ ہر سچے مسلمان کے دل میں طبعا حج کی خواہش ہوتی ہے اور اگر وہ کسی مجبوری کی وجہ سے حج کو نہیں جاسکتا تو ایک طرح اس کا معاملہ بھی گویا اس آیت کے نیچے آجاتا ہے۔جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اگر تم حج سے روک دیئے جاؤ تو قربانی دو۔اگر غور کیا جائے تو اس آیت سے بھی عید الاضحی کی قربانی کا استدلال ہوتا ہے اور اغلب یہ ہے کہ جس طرح مثلاً نماز کے اجمالی حکم سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ نمازوں کے وقتوں کی تعیین فرما کر ان کا حکم دیا ہے۔اسی طرح آپ نے حج سے روکے جانے کی صورت میں قربانی دینے کے حکم سے بھی یہ استدلال فرمایا ہو گا کہ وہ مسلمان جو کسی مجبوری کی وجہ سے حج کو نہیں جاسکتا وہ گویا با معنی حاجی کے مفہوم میں آ جاتا ہے۔اور اگر وہ قربانی کی طاقت رکھتا ہے کیونکہ طاقت کا ہونا بہر حال لازمی شرط ہے تو اسے چاہئے کہ قربانی دے کر نہ صرف حضرت اسمعیل علیہ السلام کی قربانی کی یاد کو تازہ رکھے بلکہ حج کی محرومی کا کفارہ بھی دے۔بہر حال قرآن شریف میں فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُ۔یعنی نماز کو قائم کرو اور قربانی دو“۔اس بات کی طرف قطعی اشارہ کر دیتے ہیں کہ قربانی کے حکم کی اصل بنیاد قرآن مجید پر ہی قائم ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات بھی دراصل اسی قرآنی حکم کی فرع ہیں۔اب رہا یہ سوال کہ آیا عید الاضحیٰ کی قربانی فرض ہے یا کہ واجب یا سنت وغیرہ۔سو گو غیر اصطلاحی طور پر سنت کا لفظ اوپر کی حدیثوں میں آچکا ہے مگر بہر حال یہ فقہاء کی اصطلاحیں ہیں جن میں ہمیں جانے کی چنداں ضرورت نہیں۔ہمارے لئے صرف اس قدر جاننا کافی ہے کہ قربانی کے حکم کی بنیاد قرآن نے قائم فرمائی۔اور پھر اس بنیاد کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور اقوال اور ارشادات نے مستحکم کیا اور آنحضرت صلی اللہ