مضامین بشیر (جلد 3) — Page 636
مضامین بشیر جلد سوم 636 اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بے شک قربانی کی طاقت نہ رکھنے والے غیر مستطیع لوگوں کے لئے قربانی واجب نہ سہی مگر کیا وہ ایسے طاقت رکھنے والے مستطیع لوگوں کے لئے واجب ہے جو غیر حاجی ہوں؟ سواس کے جواب میں اچھی طرح یا درکھنا چاہئے کہ گو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرض یا واجب یا سنت و غیرہ فقہی اصطلاحیں استعمال نہیں کیں مگر صحیح حدیث سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیشہ عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی کی اور اپنے صحابہ کو بھی اس کی تاکید فرمائی۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ عَنْ أَبِي عُمَرَ قَالَ أَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ عَشَرَ سِنِيْنَ يُضَحِى (ترندی) یعنی حضرت عبداللہ بن عمر روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد مدینہ میں دس سال گزارے۔آپ نے ہمیشہ عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی کی۔بلکہ آپکو عید الاضحی کی قربانی کا اس قدر خیال تھا کہ آپ نے وفات سے قبل اپنے داما داور چچازاد بھائی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وصیت فرمائی کہ میرے بعد بھی میری طرف سے عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی کرتے رہنا۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ عَنْ حَنَشَ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُضَحِي بِكَبْشَيْنِ فَقُلْتُ لَهُ مَا هَذَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَانِي أَنْ أَضَحِيَ عَنْهُ فَإِنَّهُ أَضَحِيَ عَنْهُ۔(ابوداؤد) یعنی حنش روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کو دیکھا کہ وہ عید الاضحیٰ کے موقع پر دود نے قربان کر رہے تھے۔میں نے ان سے پوچھا کہ دور نبوں کی قربانی کیسی ہے؟ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت فرمائی تھی کہ میں آپ کی طرف سے قربانی ( آپ کی وفات کے بعد ) کرتا رہوں۔سو میں آپ کی طرف سے قربانی کرتا ہوں۔عید الاضحی کے دن قربانی کرنا آپ کا ذاتی فعل ہی نہیں تھا بلکہ آپ اپنے صحابہ کو بھی اس کی تحریک فرماتے تھے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ خَطَبْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّي ثُمَّ نَرْجِعَ فَتَنْحَرَ فَمَنْ فَعَلَ ذَالِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنتَنَا۔( بخاری ومسلم) یعنی حضرت براء روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عید الاضحی کے دن خطبہ دیا اور اس میں فرمایا کہ اس دن کام یہ کرنا چاہئے کہ انسان عید کی نماز ادا کرے اور پھر اس کے بعد قربانی دے۔