مضامین بشیر (جلد 3) — Page 614
مضامین بشیر جلد سوم 614 دن تک روتے رہے۔ایسا ہی حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ معاملہ ہوا اور صلیب کے واقعہ کے وقت تمام حواری تتر بتر ہو گئے اور ایک ان میں سے مرتد بھی ہو گیا۔سواے عزیز و! جب کہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دوقدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھاوے۔سواب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی اس قدیم سنت کو ترک کر دیوے۔اس لئے تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی ہے غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا دیکھنا بھی ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائگی ہے۔جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا۔اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک میں نہ جاؤں۔لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی۔جیسا کہ خدا کا براہین احمدیہ میں وعدہ ہے اور وہ وعدہ میری ذات کی نسبت نہیں ہے بلکہ تمہاری نسبت وعدہ ہے۔جیسا کہ خدا فرماتا ہے کہ میں اس جماعت کو جو تیرے پیرو ہیں قیامت تک دوسروں پر غلبہ دوں گا۔سوضرور ہے کہ تم پر میری جدائی کا دن آوے تا بعد اس کے وہ دن آوے جو دائی وعدہ کا دن ہے۔میں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں۔اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔سوتم خدا کی قدرت ثانی کے انتظار میں اکٹھے ہو کر دعائیں کرتے رہو۔اور چاہئے کہ ہر ایک صالحین کی جماعت ہر ایک ملک میں اکٹھے ہو کر دعا میں لگے رہیں تا دوسری قدرت آسمان سے نازل ہو اور تمہیں دکھاوے کہ تمہارا خدا ایسا قادر خدا ہے۔“ رساله الوصیت روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 305-306) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ نہایت لطیف اور نہایت زبردست حوالہ مسئلہ خلافت کے معاملہ میں عموماً اور مسئلہ خلافت احمدیہ کے معاملہ میں خصوصاً بہترین ہدایات پر مشتمل ہے جس سے ذیل کے نتائج پر نہایت فیصلہ کن روشنی پڑتی ہے: (1) یہ کہ ہر نبوت کے بعد خلافت کا سلسلہ مقدر ہوتا ہے۔تا اس سلسلہ کے ذریعہ خدا تعالیٰ نبوت کے کام کو جو گویا ایک بیج بونے کی حیثیت رکھتا ہے تکمیل تک پہنچائے۔(2) یہ کہ سلسلۂ خلافت جس کا دوسرا نام قدرت ثانیہ ہے ایسا ہی ہے جیسا کہ حضرت خاتم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ خلیفہ اول کے وجود باجود میں ظاہر ہوا۔