مضامین بشیر (جلد 3) — Page 600
مضامین بشیر جلد سوم 600 اللہ اللہ ! یہ خدائی رحمت اور اسلامی رواداری کی کتنی شاندار مثال ہے جو احمدیت نے پیش کی ہے کہ حديث نبوى اخْتَلَافُ أُمَّتِی رَحْمَةٌ کا ایک بہت دلکش منظر آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔بیشک جماعت احمدیہ نے بھی دوسرے مسلمانوں سے اختلاف کیا ہے مگر یہ اختلاف اصولی نوعیت کا ہے اور اہم مسائل سے تعلق رکھتا ہے۔مثلاً جہاں آج کل کے اکثر مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وحی والہام کا دروازہ بند قرار دیتے ہیں وہاں احمدیت نہ صرف اس دروازہ کو کھولتی ہے بلکہ اسے اسلام کی زندگی کا بین ثبوت مانتی ہے۔اسی طرح جہاں غیر احمدی مسلمان حضرت عیسی علیہ السلام کو آج تک آسمان پر زندہ مانتے ہیں وہاں جماعت احمدیہ نہ صرف مسیح ناصری کو فوت شدہ قرار دیتی ہے بلکہ اس عقیدہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نعوذ باللہ موجب بہتک سمجھتی ہے کہ امت محمدیہ کی اصلاح کے لئے حضرت عیسی کو جو اسرائیلی سلسلہ کے نبی تھے آسمان سے نازل کیا جائے۔حالانکہ سرور کائنات (فداہ نفسی ) زمین کی گہرائیوں میں مدفون ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کیا خوب فرماتے ہیں کہ : مسلمانوں ادبار آیا قرآں کو بھلایا رسول حق کو مٹی میں سلایا مسیحا کو فلک ہے بٹھایا یہ تو ہیں کر کے پھل ایسا ہی پایا اہانت نے انہیں کیا کیا دکھایا اسی طرح جہاں احمدیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سچے دل اور کامل یقین کے ساتھ خاتم النبین یقین کرتی ہے وہاں وہ اس بات پر بھی ایمان لاتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی ظلمی اور تابع اور غیر تشریعی نبوت کا دروازہ کھلا ہے تا کہ ایک طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان کا کمال ثابت ہو اور دوسری طرف اسلام کی خدمت اور اشاعت کے لئے روحانی مصلحوں کی آمد کے سلسلہ میں بھی کوئی روک نہ پیدا ہونے پائے۔اس کے مقابل پر اس زمانہ کے دوسرے مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت اور رسالت کے سلسلہ کو من کل الوجوہ مسدود قرار دے کر اس عظیم الشان نہر کے آگے بند لگانا چاہتے ہیں جسے خدائے عرش نے الکوثر کے نام سے یاد کیا ہے۔پس کجا اس قسم کے اہم اور اصولی اختلافات جن پر