مضامین بشیر (جلد 3) — Page 599
مضامین بشیر جلد سوم 599 قسم کے طریق پائے جاتے ہیں۔لیکن اصل امر جس کی طرف میں اس جگہ احباب کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ جواب ہے کہ ”ایسے اختلافات صحابہ کرام میں بھی پائے جاتے تھے“ حضرت مسیح موعود اس نہایت مختصر اور بالکل سادہ سے جواب میں جماعت احمدیہ کا وہ وسیع اور حکیمانہ مسلک مضمر ہے جس پر حضرت مسیح موعود اس قسم کے جزئی مسائل میں جماعت کو قائم فرمانا چاہتے تھے۔غیر احمدیت سے آئے ہوئے احمدی احباب اور خصوصاً عمر رسیدہ اصحاب جانتے ہیں کہ اس قسم کے عام فقہی مسائل میں مسلمانوں کے مختلف فرقوں میں کتنا اختلاف پایا جاتا ہے اور بعض اوقات یہ اختلاف ایسی شدت اختیار کر جاتا رہا ہے کہ مسجدوں میں تو تو میں میں سے گزر کر ہاتھا پائی تک نوبت پہنچتی رہی ہے۔اور نماز پڑھتے ہوئے لوگوں کو اس قسم کے فروعی اختلافوں کی بناء پر مسجدوں سے باہر نکال دیا جاتا رہا ہے۔اور اس خیال سے کہ کسی کے آمین بالجہر کہنے یا رفع یدین کرنے سے نعوذ باللہ مسجد نا پاک ہوگئی ہے اس کو پانی سے مل مل کر دھویا جاتا رہا ہے۔اس قسم کے نظارے آج سے پچاس ساٹھ سال پہلے اتنے عام تھے کہ مسلمانوں کی مسجد میں دوسروں کی ہنسی کا نشانہ بن کر رہ گئی تھیں۔بلکہ اب بھی کبھی کبھی ایسے جزئی اختلافات کی ناگوار صدائے بازگشت اٹھتی رہتی ہے۔اور اچھے اچھے متدین نظر آنے والے لوگ ان نا گوارا ختلافات کو ہوا دینے لگ جاتے ہیں۔لیکن احمدیت ان حالات میں بھی خدائی رحمت کا کیسا زبردست پیغام لے کر آتی ہے کہ اس قسم کے جزئی اختلافات کو یکسر مٹا کر عبادت گاہوں کو برکت و رحمت کا گہوارہ بنادیا ہے۔میں نے اپنے آنکھوں سے دیکھا اور بار بار دیکھا ہے اور اپنے کانوں سے سنا اور بار بار سنا ہے کہ ہماری مسجدوں میں ( اور قادیان اور ربوہ دونوں میں) ایک شخص آمین بالجبر کہہ رہا ہے تو اس کے پاس کا نمازی بظاہر خاموش کھڑا ہے اور دل میں آہستہ سے آمین کہنے پر اکتفا کرتا ہے۔بلکہ میں نے اپنی مسجدوں میں بعض نظارے رفع یدین کے بھی دیکھے ہیں حالانکہ اکثر احمدی رفع یدین نہیں کرتے اور بسم اللہ کی جہری اور خفی قرآۃ کا ذکر تو اسی نوٹ میں اوپرگزر چکا ہے کہ کس طرح خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی موجودگی میں ایک صاحب جب امام الصلوۃ بنتے تھے تو بسم الله بالجبر پڑھتے تھے تو دوسرے صاحب اپنی جہری قرآة اَلْحَمْدُ لِلَّهِ سے شروع کرتے تھے۔لیکن حضرت مسیح موعود خاموشی کے ساتھ دونوں کا مسلک ملاحظہ فرماتے تھے اور کسی کوٹو کتے نہیں تھے۔بلکہ جب حضور کے سامنے یہ اختلاف پیش کیا گیا تو اس کے سوا کچھ نہیں فرمایا کہ ایسے اختلاف صحابہ کرام میں بھی پائے جاتے تھے