مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 593 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 593

مضامین بشیر جلد سوم 593 مسجد میں بیٹھ کر نماز پڑھتا رہے۔یہ طریق یقیناً اسلامی تعلیم کے خلاف اور اس مجاہدانہ زندگی کے مغائر ہوگا جس پر ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو قائم فرمانا چاہتے تھے۔قرآن مجید فرماتا ہے: فَضَّلَ اللهُ الْمُجهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقَعِدِينَ دَرَجَةً (النساء: 96) یعنی خدا نے دین کے رستہ میں جدو جہد کرنے والوں اور اسلام کی ترقی میں کوشاں رہنے والوں کو گھر میں بیٹھ کر نماز روزہ کرنے والوں پر بڑی فضیلت دی ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ : لَا رَهْبَانِيَةَ فِي الْإِسْلَام ( صحیح بخاری کتاب النکاح باب الترغيب في النكاح) یعنی اسلام اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ کوئی شخص دنیا کو کلی طور پر ترک کر کے اور حقوق العباد کو یک قلم بھلا کر صرف نماز روزہ کے لئے وقف ہو جائے۔کیونکہ یہ بات انسانی فطرت اور پیدائش خلق کے بنیادی نظریہ کے خلاف ہے۔اسلام تو انسان کی ترقی اور اسے خدائی انعامات کا حق دار بنانے کے لئے اس بات کا قائل ہے جو کسی شاعر نے بظاہر ان متضاد الفاظ میں کہی ہے کہ: درمیان قعر دریا تخته بندم کرده ای باز میگوئی که دامن تر مگن ہوشیار باش تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے کیا مراد ہے جو آپ نے ان الفاظ میں فرمایا ہے کہ: رَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِى الْمَسَاجِدِ إِذَا خَرَجَ مِنْهُ مَتَى يَعُودُ إِلَيْهِ (صحیح بخاری کتاب الزکوۃ باب الصدقه بالیمین ) یعنی وہ شخص خدا تعالیٰ کے خاص سائے کے نیچے ہے کہ جب وہ نماز پڑھ کر مسجد سے باہر آتا ہے تو گویا اپنے دل کو مسجد میں ہی لٹکا ہوا چھوڑ آتا ہے۔تا وقتیکہ وہ پھر دوسری نماز کے لئے مسجد میں پہنچ جائے۔سو ہوشیار ہو کر سن لو کہ جیسا کہ خود ان الفاظ میں اشارہ پایا جاتا ہے۔اس حکیمانہ ارشاد سے یہی مراد ہے کہ نمازوں کی ادائیگی کے بعد بے شک مسجدوں سے باہر آؤ اور دین و دنیا کے کاموں میں حصہ لو اور حقوق اللہ کی طرح حقوق العباد میں بھی بہترین نمونہ بنو مگر تمہیں خدا کی عبادت میں ایسا شوق و ذوق حاصل ہونا چاہئے کہ گویا مسجد سے باہر آنے کے بعد بھی تمہارا دل مسجد میں ہی لنکار ہے اور تم اس انتظار میں رہو کہ کب پھر حَی على الصلوة کی آواز آئے اور کب تم دوبارہ خدا کی عبادت کے لئے مسجد کی طرف لپکتے ہوئے پہنچو۔یہ