مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 579 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 579

مضامین بشیر جلد سوم 579 ہو اور وہ محض منتر جنتر کے طور پر کوئی دعائیہ کلمہ زبان پر لا رہا ہو۔قرآن مجید رمضان میں دعاؤں کے متعلق فرماتا ہے کہ: وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَنِى فَإِنّى قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ لا فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ (البقره: 187) یعنی اے رسول ! جب میرے بندے (نہ کہ شیطان کے بندے) میرے متعلق تجھ سے پوچھیں تو تو ان سے کہہ دے کہ میں اپنے بندوں کے بالکل قریب ہوں۔میں دعا کرنے والے کی دعاؤں کو سنتا اور قبول کرتا ہوں جب کہ وہ مجھے پکار ہیں۔مگر ضروری ہے کہ وہ بھی میری باتوں پر کان دھریں اور مجھ پر سچا ایمان لائیں تا کہ ان کی دعائیں پایہ قبولیت کو پہنچیں۔پس لا ریب لیلۃ القدر کی مبارک رات دعاؤں کی خاص قبولیت کی رات ہے جب کہ رحمت کے فرشتے زمین کی طرف جھک جھک کر مومنوں کی دعاؤں کو ذوق و شوق کے ساتھ اچکتے ہیں۔لیکن بہر حال یہ رات بھی ان شرطوں سے بالکل باہر نہیں جو دعاؤں کی قبولیت کے لئے خدائے حکیم وعلیم کی طرف سے مقرر کی گئی ہیں۔مگر چونکہ یہ رات گویا خدا کے دربار عام کی رات ہے اس لئے اس میں شبہ نہیں کہ اس رات میں ان شرطوں کو خدا کی وسیع رحمت نے کافی نرم کر رکھا ہے۔لیلۃ القدر کی ظاہری علامت کے متعلق کچھ کہنا غالباً غلط فہمی پیدا کرنے والا ہوگا۔کیونکہ اس کی اصل علامت روحانیت کا انتشار ہے جسے دعاؤں کا تجربہ رکھنے والے مومنوں کا دل اکثر صورتوں میں محسوس کر لیتا ہے۔مگر کیا اچھا ہو کہ ہمارے دوست ان چند راتوں کے بیشتر حصہ کو خاص کوشش کے ساتھ دعاؤں اور ذکرِ الہی میں گزاریں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس زریں ارشاد کی حکمت کو پورا کریں کہ لیلتہ القدر کو رمضان کی آخری راتوں میں تلاش کرو۔ہمارے دادا اپنے آخری ایام میں اکثر فرمایا کرتے تھے کہ : عمر بگذشت و نماندست جز آیا می چند به که دریاد کسے صبح کنم شامے چند یعنی عمر گزرگئی اور اب صرف چند دن باقی ہیں۔کیا اچھا ہو کہ ان چند دنوں کو کسی کی یاد میں اس طرح خرچ کروں کہ شام کو بیٹھوں اور صبح کردوں۔رمضان میں اپنی کسی کمزوری کو دور کرنے کا عہد : بالآخر میں دوستوں کو بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ اپنے بھائیوں اور بہنوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ