مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 573 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 573

مضامین بشیر جلد سوم 573 خواہشات کی قربانی پیش کرتا ہے۔اور حقوق العباد اس طرح کہ روزے کے ذریعہ روزے داروں میں اپنے غریب بھائیوں کی تنگ دستی کا احساس پیدا ہوتا ہے اور انسان ان کے لئے زیادہ سے زیادہ مالی قربانی کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔پھر رمضان میں زکوۃ کی عبادت بھی شامل ہے۔کیونکہ اول تو رمضان کے آخر میں فدیہ کی ادا ئیگی مقرر کی گئی ہے جس کا دوسرا نام زکوۃ الفطر ہے جو عید کی آمد پر غریب بھائیوں کی امداد کے لئے تجویز کی گئی ہے۔اور پھر ویسے بھی ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ رمضان کے مہینہ میں اپنے غریب بھائیوں کی امداد نہایت فیاضی کے ساتھ اور بہت کھلے دل سے کرنی چاہئے۔اور خود آپ کا اپنا نمونہ یہ تھا کہ رمضان میں آپ کا ہاتھ غریبوں اور مسکینوں کی مدد میں اس طرح چلتا تھا کہ گویا ایک تیز آندھی ہے جو کسی روک کو خیال میں نہیں لاتی۔بالآخر رمضان میں ایک طرح سے حج کی عبادت کا عنصر بھی شامل ہے۔کیونکہ جس طرح ایک حاجی حج میں گویا دنیا سے کٹ کر احرام کا لباس پہن لیتا ہے اور شب و روز عبادت الہی میں مصروف رہتا اور جائز نفسانی لذات سے بھی کنارہ کشی اختیار کرتا ہے۔اسی طرح رمضان کے مہینہ میں روزہ دار دن کے اوقات میں کھانے پینے اور بیوی کے پاس جانے سے اجتناب کرتا ہے۔اور اعتکاف کے ایام میں تو یہ اجتناب گویا بکلی انقطاع کا رنگ اختیار کر لیتا ہے کیونکہ ان ایام میں روزے دار دن رات مسجد میں بیٹھ کر عبادت الہی کے لئے کلیۂ وقف ہو جاتا ہے۔روزہ دار کی جزا خود خدا ہے: الغرض رمضان کا مہینہ جامع العبادات ہے جس میں اسلام کی چاروں بنیادی عبادتوں کو بہترین صورت میں ایک جگہ جمع کر دیا گیا ہے۔اس میں نماز بھی ہے اور روزہ بھی ہے اور زکوۃ بھی ہے اور حج کی چاشنی بھی شامل ہے۔بلکہ اگر غور سے دیکھا جائے تو رمضان میں جہاد کا عصر بھی پایا جاتا ہے۔کیونکہ روز نفس کی تربیت کا بھی نہایت مؤثر ذریعہ ہے بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض حالات میں نفس کے جہاد کو تلوار کے جہاد سے بھی افضل قرار دیا ہے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک موقع پر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ سے فارغ ہو کر مدینہ کی طرف واپس تشریف لا رہے تھے۔آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ: رَجَعْنَا مِنَ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إِلَى الْجِهَادِ الأكبر ( صحیح بخاری کتاب الجہاد والسير ) یعنی اب ہم چھوٹے جہاد سے فارغ ہو کر بڑے جہاد کی طرف لوٹ رہے ہیں۔اس طرح آپ نے نفس کے جہاد کو تلوار کے جہاد سے بھی افضل قرار دیا۔ایک دوسرے موقع پر آپ