مضامین بشیر (جلد 3) — Page 572
مضامین بشیر جلد سوم 572 دل کے عارضہ کے علاوہ ذیا بیطیس کا مرض بھی دامن گیر ہو چکا ہے۔جس میں ڈاکٹروں نے کھانے کے اوقات قطعی طور پر معین کر دئے ہیں۔اور دن کے مختلف حصوں میں دوائیوں کا استعمال لازمی قرار دیا ہے۔اس لئے اب تو صرف يَغْفِرُ مَنْ يَّشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابِ کا ہی سہارا ہے۔وَأَرْجُو مِنَ اللَّهِ خَيْراً وَ هُوَ الْغَفُورُ الْوَدُودُ الرَّحِيمُ الْكَرِيمُ رمضان قرآنی نزول کی سالگرہ ہے: جیسا کہ اپنے گزشتہ مضمونوں میں بار بار بیان کر چکا ہوں رمضان کا مہینہ ایک بڑا ہی مبارک مہینہ ہے۔اس کی برکتیں ان عظیم الشان عبادتوں تک ہی محدود نہیں جو اس مہینہ کے ساتھ مخصوص ہیں۔بلکہ اس مہینہ کی پہلی برکت یہ ہے جس کی وجہ سے اسے ان عبادتوں کے لئے چنا گیا ہے کہ اس میں قرآن پاک یعنی خدا کی آخری اور عالمگیر شریعت کے نزول کا آغاز ہوا تھا۔سورمضان کا مہینہ اسلام کے جنم کا یادگاری مہینہ ہے جس کے ساتھ وہ عالم وجود میں آیا اور دنیا اس روحانی سورج کے نور سے منور ہوگئی۔اور ہم ہر سال گویا اس کا یوم یعنی سالگرہ مناتے ہیں۔اور وہ عید کی طرح ہر سال بار بار آکر ہمارے دلوں میں قرآنی نزول اور قرآنی برکات کی یاد تازہ کرتا ہے۔رمضان کا مہینہ جامع العبادات ہے: رمضان کی برکات کا نمایاں اور مخصوص پہلو یہ ہے کہ وہ جامع العبادات ہے۔جیسا کہ ہر مسلمان جانتا ہے اسلام کی کثیر التعداد عبادتوں میں سے چار عبادتیں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔یعنی (1) نماز (2) روزہ (3) زکوۃ اور (4) حج۔اور یہ چاروں بنیادی عبادتیں رمضان میں بہترین صورت میں جمع کر دی گئی ہیں۔نماز کی عبادت رمضان میں اس طرح شامل کی گئی ہے کہ پنجگانہ فریضہ نمازوں کے علاوہ رمضان کے مہینہ میں تہجد اور تراویح اور دیگر نفلی نمازوں ( مثلاضحی وغیرہ) کی خاص تاکید کی گئی ہے۔اور نماز وہ مقدس ترین عبادت ہے جس مِعْرَاجُ الْمُؤمِن ( یعنی مومنوں کے لئے اوپر چڑھنے کی سیڑھی) کہا گیا ہے۔جس کے ذریعہ انسان خدا کی طرف اٹھتا اور اس کا قرب حاصل کرتا ہے۔اور صوم یعنی روزہ تو رمضان کی مخصوص عبادت ہے ہی جس کے متعلق حدیث قدسی میں آتا ہے کہ خدا فرماتا ہے کہ جہاں دوسری عبادتوں کے اور اور اجر مقرر ہیں وہاں روزے دار کے روزہ کا اجر میں خود ہوں۔دراصل روزہ میں حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی ادائیگی بصورت احسن شامل کر دی گئی ہے۔حقوق اللہ اس طرح کہ روزہ میں انسان خدا کے لئے اپنے نفس اور نفس کی