مضامین بشیر (جلد 3) — Page 37
مضامین بشیر جلد سوم 37 پس تم فاسق ہو کہ زبان پر تو اسلام ہے مگر تمہارے ہاتھ پاؤں اسلام کی جڑھیں کاٹنے کے درپے ہیں۔فَافُهُمْ وَتَدَبَّرُ وَلَا تُكُنُ مِنَ الْمُمْتَرِينَ - دراصل غور نہیں کیا گیا ورنہ یہ بات بالکل آسانی کے ساتھ مجھی جاسکتی ہے کہ اصل سوال عزل کا نہیں بلکہ اصل سوال خلافت کے تقرر اور قیام کا ہے اور عزل کا سوال تقرر کے سوال کے تابع اور اس کی فرع اور شاخ ہے۔عزل کیا ہے؟ ایک بنی ہوئی عمارت کو گرانے کا نام عزل ہے۔تو کیا دنیا کے پردے پر کوئی ایسا عقل کا اندھا بھی ہو سکتا ہے جو اس بات کا علم حاصل کرنے کے بغیر ہی کسی عمارت کو گرا نا شروع کر دے کہ یہ عمارت میری ہے یا کسی اور کی ؟ یقیناً جو شخص کسی دوسرے کی عمارت کو مسمار کرنے کے درپے ہو گا وہ مجرم بنے گا اور پکڑا جائے گا اور یہاں تو کسی دوسرے فرد کی عمارت کا سوال نہیں بلکہ حکومت کی عمارت اور خدا تعالیٰ کی عمارت کا سوال ہے۔پس نادان بن کر عزل کے سوال کے پیچھے مت پڑو۔بلکہ یہ دیکھو کہ خلافت قائم کس طرح ہوتی ہے۔اگر اسلامی خلافت زمین و آسمان کے خالق و مالک کی بنائی ہوئی عمارت ہے اور تم اس عمارت کو کھڑا کرنے میں محض ایک آلہ کی حیثیت رکھتے ہو اور تقدیر خدا کی چلتی اور انتخاب خدا تعالیٰ کا ہوتا ہے تو پھر اس قلعہ پر ہاتھ ڈالتے ہو۔ڈرو کہ اس پر خدائی گارد کا پہرہ ہے اور گو خدا کے مادی قانون کے ماتحت تم اس قلعہ کو نقصان پہنچانے میں وقتی طور پر کامیاب ہو جاؤ مگر تم اس کے نتائج سے بچ نہیں سکتے اور اس کا روحانی قانون تمہیں جلد یا بدیر کچل کر رکھ دے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا خوب فرمایا ہے کہ اے آں کہ سوئے من بد دیدی بصد تبر از باغباں بترس که من شاخ مشمرم بد قسمتی سے سارا دھوکا اس بات سے لگ رہا ہے کہ دینی اماموں اور دنیوی لیڈروں کے فرق کو نہیں سمجھا گیا اور سب کو ایک ہی قسم قرار دے کر اور ایک ہی قانون کے ماتحت لا کر فتوی لگا دیا گیا ہے کہ چونکہ دنیوی لیڈروں کا تقر ر وقتی ہوتا ہے اور حسب ضرورت انہیں معزول بھی کیا جا سکتا ہے۔اس لئے دینی مقتداؤں اور روحانی اماموں پر بھی یہی قانون جاری ہونا چاہیئے۔حالانکہ ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔دنیوی لیڈ ر جمہوری نظام کا حصہ ہوتا ہے جس میں حکومت کا حق جمہور کی طرف سے ہو کر نیچے سے اوپر کو جاتا ہے۔لیکن اس کے مقابل پر دینی امام خدا تعالیٰ کے روحانی نظام کا جزو ہوتا ہے جس میں حکومت خدا کی طرف سے ہو کر اوپر سے نیچے کو اترتی ہے۔پس ان دونوں کو ایک ہی قانون کے ماتحت لا نا قیاس مع الفارق ہی نہیں بلکہ اول درجہ کی نادانی میں داخل ہے۔