مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 563 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 563

مضامین بشیر جلد سوم 563 بے حد رحیم و مہربان ہے اور ان کی ہدایت کا ہمیشہ متمنی رہتا ہے۔اے وہ سمیع و بصیر ہستی ! جو دلوں کی گہرائیوں پر نظر رکھتی ہے جس پر زمین و آسمان میں کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں۔اگر تو مجھے فسق اور شرارت اور گمراہی میں مبتلا پاتا ہے اور اگر تو دیکھتا ہے کہ میں ایک بد فطرت اور گندہ انسان ہوں تو اے میرے خالق و مالک تو مجھ بد کار کو پارہ پارہ کر کے تباہ کر دے اور میرے مخالفوں کے گروہ کو خوشی پہنچا۔ان کے دلوں پر اپنی رحمت کی بارشیں نازل کر اور ان کو ان کی ہر مراد عطا فرما۔اور اس کے مقابل پر میرے گھر کے درودیوار پر آگ برسا اور میرا دشمن ہو جا اور میرا تمام کاروبار تباہ و برباد کر دے۔لیکن اے میرے آقا! اگر تو دیکھتا ہے کہ میں تیرے در کا سچا غلام ہوں اور اگر تو جانتا ہے کہ تیرا دروازہ میری پیشانی کی سجدہ گاہ ہے اور اگر تو میرے دل میں اس پاک محبت کو پاتا ہے جس کے راز سے تو نے اس وقت تک دنیا کو بے خبر رکھا ہے تو اے میرے محبوب! تو میرے ساتھ محبت کا سلوک فرما اور میرے دل کے راز کو دنیا پر کسی قدر ظاہر فرما دے۔ہاں اے وہ جو کہ ہر تلاش کرنے والے کی طرف خود چل کر آتا ہے اور ہر محبت میں جلنے والے کی اندرونی سوزش پر آگاہ ہے میں تجھے اپنے اس تعلق کا واسطہ دے کر کہتا ہوں جو میرے دل میں تیرے ساتھ ہے اور اس محبت کو گواہ بنا کر تجھے پکارتا ہوں۔جس کا بیج میں نے تیرے لئے اپنے دل میں بورکھا ہے کہ تو میری بریت کے لئے باہر نکل آ۔ہاں ہاں تو وہی تو ہے جو میری حفاظت کا قلعہ اور میری پناہ گاہ اور میری عزت کا پاسبان ہے۔آگے آ اور جو آگ تو نے میرے دل میں روشن کر رکھی ہے اور اس کے شعلوں سے تو نے اپنے غیر کو جلا کر بھسم کر دیا ہے۔اب اسی آگ سے اے میرے دل و جان کے مالک میرے منہ کو بھی روشن کر دے اور میری اندھیری رات کو دن کی روشنی میں بدل دے۔یہ وہ اشعار تھے جو 27 دسمبر کی صبح کو میرے کانوں تک پہنچے اور مجھے انہوں نے بالکل مسحور کر دیا۔میں نے کہا اگر کوئی خدا ہے اور یقیناً ہے ) اور اگر خدا کو دنیا میں حکومت حاصل ہے (اور یقیناً حاصل ہے ) اور خدا کا یہ منشاء ہے کہ لوگ ہدایت پائیں اور گمراہیوں سے محفوظ رہیں اور یقیناً اس کا یہی منشاء ہے ) تو پھر ایسے اشعار کہنے والا انسان یا تو جلد تباہ و برباد ہو کر خاک میں مل جائے گا اور یا اگر وہ محفوظ رہے گا اور ہر قسم کی مخالفت کے باوجود دن دونی رات چوگنی ترقی پائے گا اور اس کے مخالف اپنے ہر معاندانہ اقدام میں خائب و خاسر رہیں گے تو پھر اس سے صرف اور صرف ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ان اشعار کا کہنے والا شخص ایک پاکباز انسان تھا جس کے وجود میں یہ قرآنی وعدہ پوری آب و تاب کے ساتھ پورا ہوا کہ : إِنَّا لَتَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْأَشْهَادُ (المومن (52)