مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 561 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 561

مضامین بشیر جلد سوم 1 نصرت الہی کا عجیب و غریب نشان خود بروں آاز بیٹے ابراء من اے تو کہف و ملجاء وما وائے مسن 561 غالبا گزشتہ جلسہ سالانہ کے ایام میں دسمبر کی 27 تاریخ تھی اور صبح یعنی قبل دو پہر کا وقت تھا اور میں اپنے مکان میں جلسہ میں آنے والے احباب کی ملاقات میں مصروف تھا کہ میرے کانوں میں جلسہ گاہ سے ایک نہایت سُریلی اور دلکش آواز پہنچی۔میں نے توجہ لگا کر سنا تو کوئی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ فارسی نظم پڑھ رہے تھے جو حضور نے اپنی کتاب حقیقۃ المہدی“ میں لکھی ہے اور اس میں اپنی تنہائی کی گھڑیوں میں خدا کو مخاطب کر کے بڑے دردناک اور دل سوز رنگ میں خدا سے عرض کیا ہے کہ اے میرے آقا! تو میرے دل کے بھیدوں سے آگاہ ہے۔اگر تو سمجھتا ہے کہ میں نعوذ باللہ ایک ناپاک انسان ہوں اور لوگوں کو تیرا نام لے لے کر گمراہ کر رہا ہوں تو تو مجھے ذلت کی مار سے تباہ و برباد کر دے اور میرے دشمنوں کو راحت اور خوشی پہنچا۔لیکن اگر تو جانتا ہے کہ میں تیرا ایک راستباز بندہ ہوں اور تیری محبت میری روح کی غذا ہے تو پھر اے میرے آقا! تو میری بریت کے لئے خود آگے آ اور مجھے اپنے فضلوں سے نواز اور اپنے زبر دست نشانوں کی روشنی سے میری صداقت کو ظاہر فرما دے۔ان شعروں نے مجھے ملاقات کرنے والوں کی گفتگو سے غافل کر کے گویا بالکل مسحور کر دیا اور میں کافی دیر تک اس زبر دست کلام کی لذت سے مخمور رہا۔اور میرے دل کی گہرائیوں سے یہ آواز اٹھی کہ اگر ان اشعار کے کہنے والا انسان نہ صرف خدائی گرفت سے بچ جاتا ہے بلکہ خدائی تائید اور اس کی غیر معمولی نصرت سے روز افزوں حصہ پاتا ہے تو دنیا کا کوئی صحیح الدماغ انسان اسے جھوٹا نہیں کہہ سکتا۔میں یہ اشعار ذیل میں درج کرتا ہوں۔ناظرین انہیں غور سے پڑھیں اور پھر خدا کو حاضر و ناظر جان کر انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں کہ ان کا نور ضمیر اس معاملہ میں کیا فتویٰ دیتا ہے؟ حضرت مسیح موعودؓ فرماتے ہیں: اے قدیر و خالق ارض و رحیم و مهربان و رہنما اے کہ میداری میداری تو بر دلها نظر اے کہ از تو نیست چیزے مستتر