مضامین بشیر (جلد 3) — Page 552
مضامین بشیر جلد سوم 552 قلم کو وہ عالمگیر پھیلا ؤ اور وہ دوام عطا کر دیا ہے جس کی اس زمانہ میں کوئی نظیر نہیں کیونکہ قلم کا لکھا ہوا گو یا پتھر کی لکیر ہوتا ہے جسے کوئی چیز مٹا نہیں سکتی۔اور قلم کو یہ مزید خصوصیت بھی حاصل ہے کہ اسے اپنے منبع کی نسبت کے لحاظ سے کامل یقین کا مرتبہ میسر ہوتا ہے۔ہمیں بعض اوقات کسی شخص کی طرف سے کوئی بات زبانی طور پر پہنچی ہے مگر اس کے سننے والوں کی روایت میں اختلاف ہو جاتا ہے۔مگر جب کسی شخص کے قلم سے کوئی بات نکلے تو پھر اس بات کے منبع اور ماخذ کے متعلق کسی قسم کا شبہ نہیں رہتا۔بہر حال اس زمانہ میں جب کہ اسلام کے دشمن اسلام کی تعلیم اور حضرت سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات کے خلاف ہزاروں لاکھوں رسالے اور کتابیں شائع کر رہے ہیں۔قلم سے بڑھ کر اسلام کی مدافعت اور اسلام کے پرامن مگر جارحانہ علمی اور روحانی حملوں سے زیادہ طاقتور کوئی اور ظاہری ذریعہ نہیں۔پس اے عزیز و اور اے دوستو! اپنے فرض کو پہچانو اور سلطان القلم کی جماعت میں ہو کر اسلام کی قلمی خدمت میں وہ جو ہر دکھاؤ کہ اسلاف کی تلوار میں تمہاری فلموں پر فخر کریں۔تمہارے سینوں میں اب بھی سعد بن ابی وقاص اور خالد بن ولید اور عمرو بن عاص اور دیگر صحابہ کرام اور قاسم اور قتیبہ اور طارق اور دوسرے فدایانِ اسلام کی روحیں باہر آنے کے لئے تڑپ رہی ہیں۔انہیں رستہ دو کہ جس طرح وہ قرونِ اولیٰ میں تلوار کے دھنی بنے اور ایک عالم کی آنکھوں کو اپنے کارناموں سے خیرہ کیا۔اسی طرح وہ تمہارے اندر سے ہوکر ( کیونکہ خدا اب بھی انہی قدرتوں کا مالک ہے قلم کے جوہر دکھائیں اور دنیا کی کایا پلٹ دیں۔چند ماہ کی بات ہے کہ مجھے کسی عزیز نے کہا اور میں شرم سے کٹ گیا کہ کچھ عرصہ سے ہماری جماعت میں اس قسم کی علمی اور تحقیقاتی تصانیف شائع نہیں ہو رہی ہیں جو چند سال پہلے شائع ہوا کرتی تھیں۔یہ اعتراض تو در حقیقت درست نہیں کیونکہ اس عرصہ میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کی طرف سے تفسیر صغیر اور تفسیر کبیر کے ذریعہ بیش بہا علمی اور عرفانی جواہر پارے منظرِ عام پر آئے ہیں اور بعض دوسرے اصحاب نے بھی بعض اچھی اچھی کتابیں لکھی ہیں۔مگر اس میں شبہ نہیں کہ جس تیز رفتاری سے قلمی خدمت میں ترقی ہونی چاہئے تھی اور جس رنگ میں بعض نئے میدانوں میں تحقیقی مضامین لکھنے کی ضرورت تھی اس میں کسی قدر کمی ہے۔اور یہ بھی ایک حد تک درست ہے کہ بعض نو جوانوں کا میلان تحقیقی اور علمی مضامین میں لکھنے کی بجائے نوک جھونک والے سطحی اور وقتی مقالوں کی طرف زیادہ ہورہا ہے۔یہ میلان ایک ترقی کرنے والی قوم کے لئے بہت نقصان دہ ہے اور ضرورت یہ ہے کہ بہت جلد کا مشاہدل کر جماعت کی قلموں کو صحیح رستہ پر ڈالنے کی کوشش کی جائے۔قرآن فرماتا ہے کہ جَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (النحل: 126)