مضامین بشیر (جلد 3) — Page 551
مضامین بشیر جلد سوم 551 پہلے اس کے آخری حصہ کو اٹھا کر دیکھا تو خط کے نیچے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ کے دستخط تھے۔اور خط کے آخر میں اس قسم کا مضمون تھا کہ اگر آپ نے احمدی نوجوانوں کو اسلام اور احمدیت کی خدمت کے لئے مضامین لکھنے اور تصانیف کرنے کی ترغیب نہ دی اور اس کا طریقہ نہ سمجھایا تو اس معاملہ میں میں اور عبد اللہ اور والدہ عبداللہ آپ پر خوش نہیں ہوں گے اَوْ كَمَا كَانَ۔میں اس خواب سے خوش تو اس لئے ہوا کہ تصنیف کے میدان میں میری حقیر سی خدمت عالم بالا میں قدر کے قابل سمجھی گئی۔اور ڈرا اس لئے کہ جماعت کے نوجوانوں کو فنِ تصنیف کی ترغیب دینے اور اس کا طریقہ سمجھانے کی ذمہ داری ایسی نازک اور ایسی وسیع ہے کہ میں شاید اپنی موجودہ عمر اور موجودہ صحت میں اسے کما حقہ ادا نہ کر سکوں۔اور عبد اللہ اور عبداللہ کی والدہ سے میں یہ سمجھا ہوں کہ عبداللہ سے مراد حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہیں جو اس زمانہ میں سب سے بڑے عبداللہ (یعنی اللہ کے بندے) ہیں اور عبداللہ کی والدہ سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ نفسی) ہیں جن کی مقدس تعلیم اور مبارک اسوہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وجود باجود پیدا ہوا۔اور خدا کرے (اور اے کاش کہ ایسا ہی ہو ) کہ قیامت کے دن ان دونوں کی روح اس عاجز سے خوش ہو۔وَ ذَالِكَ ظَنِّي بِاللَّهِ وَ أَرْجُو مِنْهُ خَيْراً۔بہر حال اس رؤیا کی بناء پر یہ نوٹ الفضل میں بھجوا رہا ہوں تا احمدی نوجوانوں کو فنِ تحریر اور مضمون نویسی کی طرف توجہ پیدا ہو۔اور وہ قلم کے میدان میں سلطان القلم ) یہ حضرت مسیح موعود کا الہامی نام ہے) کے انصار بن کر دین کی نمایاں خدمت انجام دے سکیں۔بے شک زبان بھی تبلیغ ہدایت اور اشاعت علم کا ایک بہت عمدہ ذریعہ ہے۔مگر جو مقام قلم کو حاصل ہے وہ زبان کو ہرگز حاصل نہیں۔اسی لئے قرآن مجید نے اپنی ابتدائی وحی میں قلم کے ذریعہ اشاعت علم کا نمایاں طور پر ذکر فرمایا ہے۔جیسا کہ فرمایا: اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الأكْرَمُ ٥ الَّذِى عَلَّمَ بِالْقَلَم (العلق :4-5) یعنی اے رسول لوگوں تک ہمارا نام اور ہمارا پیغام پہنچا۔کیونکہ تیرا رب تمام بزرگیوں کا مالک ہے۔ہاں وہی آسمانی آقا جس نے قلم کے ذریعہ علم کی اشاعت کا سامان پیدا کیا ہے۔پس قلم علم کی اشاعت اور حق کی تبلیغ کا سب سے بڑا اور سب سے اہم اور سب سے مؤثر ترین ذریعہ ہے۔اور زبان کے مقابلہ پر قلم کو یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ اس کا حلقہ نہایت وسیع اور اس کا نتیجہ بہت لمبا بلکہ عملاً دائمی ہوتا ہے۔زبان کی بات عام طور پر منہ سے نکل کر ہوا میں گم ہو جاتی ہے سوائے اس کے کہ اسے قلم کے ذریعہ محفوظ کر لیا جائے۔مگر قلم دنیا بھر کی وسعت اور ہمیشگی کا پیغام لے کر آتی ہے اور پریس کی ایجاد نے تو