مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 541 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 541

مضامین بشیر جلد سوم 541 ان پھولوں کو اپنے لئے موجب بہتک سمجھتی ہوگی۔دوسری طرف اگر مرنے والا خدا نخواستہ دوزخی ہے تو اسے یہ پھول ذرہ بھر بھی فائدہ نہیں دے سکتے بلکہ اس کی روح ( اگر اسے علم ہو ) خیال کرتی ہوگی کہ میرے عزیز اور میرے وارث میری ہنسی اڑا رہے ہیں کہ میں تو دوزخ کی آگ میں جل رہی ہوں اور وہ مجھ پر پھول پھینک رہے ہیں۔پس کسی جہت سے بھی دیکھا جائے قبروں پر پھول ڈالنا یا پھول چڑھانا ایک بدعت ہے جس کا کوئی بھی فائدہ نہیں۔بلکہ وہ سراسر نقصان دہ ہے۔کیونکہ ایک طرف تو وہ مرنے والوں کے لئے اذیت کا موجب ہے اور دوسری طرف وہ شرک کا رستہ بھی کھولتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اوائل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں کسی مومن نے کبھی اس قسم کی بات نہیں کی۔بے شک اسلام میں قبر کے واجبی اکرام کا حکم ہے اور ہدایت دی گئی ہے کہ ان پر بیٹھنے یا ان پر پاؤں رکھنے سے اجتناب کرو اور انہیں حتی الوسع صاف اور ستھرا رکھو۔اور ان کے ماحول کو بھی روشوں وغیرہ کے ذریعہ مناسب طور پر خوشنما بنایا جاسکتا ہے۔مگر یہ صرف واجبی احترام کی حد تک ہے تا کہ مرنے والوں کی تخفیف اور تذلیل نہ ہو۔اور ان کے رشتہ داروں اور عزیزوں کے جذبات کو بھی ٹھیس نہ لگے۔اس سے زیادہ کچھ نہیں۔اور اس سے آگے بڑھنا بدعت میں داخل ہے جس میں مرنے والوں کی کوئی عزت نہیں۔بلکہ جیسا کہ میں نے اور پر تشریح کی ہے اس میں حقیقتاً ان کی دل آزاری ہے اور ایسی بدعتوں کا انجام کبھی بھی اچھا نہیں ہوتا۔قبروں کی زیارت کا صرف یہ مقصد ہونا چاہئے کہ تا مرنے والے کی مغفرت اور بلندی درجات کے لئے دعا کی جائے۔اس کے نیک مقاصد کی کامیابی کے لئے اپنے آسمانی آقا کے سامنے ہاتھ پھیلائے جائیں۔اس کی آل و اولاد کی حفاظت اور ترقی کے لئے خدا کے حضور جھکا جائے اور اپنی موت کو یاد کر کے اپنے اچھے انجام کے واسطے بھی دعا مانگی جائے۔ہاں قبروں کی زیارت کی ایک غرض سیاسی بھی ہوا کرتی ہے۔اور وہ یہ کہ مختلف قو میں اپنے بانیوں اور خاص خاص لیڈروں کی قبروں کو ایسے رنگ میں تعمیر کرتی ہیں کہ تا دوسری قوموں کے لوگ وہاں جا کر اپنی عقیدت اور احترام کے پھول چڑھائیں۔اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ طریق قوموں کے باہمی تعلقات کو بہتر بنانے میں مدددیتا ہے۔لیکن ظاہر ہے کہ اس قسم کی زیارت کا اصل مقصد دعا نہیں ہوتا ( بلکہ زائرین میں بیشتر لوگ تو ایسے ہوتے ہیں جو دعا کے قائل ہی نہیں ہوتے ) اور صرف قومی اور سیاسی رنگ میں احترام اور باہم قدر شناسی کا اظہار مقصود ہوتا ہے۔ایسی صورت میں دنیا کا رواج ہے کہ جب بڑے لوگ کسی غیر ملک