مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 33 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 33

مضامین بشیر جلد سوم 33 کرتا ہے یعنی گو بظاہر لوگوں کی زبان بولتی ہے مگر حقیقتا تصرف خدا تعالیٰ کا چلتا ہے اور وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے۔پھر ایک دوسری حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ لَعَلَّ اللَّهَ يُقَمِّصُكَ قَمِيصًا فَإِنْ أَرَادُوكَ عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعُهُ (ترندی، کتاب المناقب عن رسول الله فی مناقب عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ) یعنی اے عثمان ! خدا تجھے ایک قمیص پہنائے گا۔مگر بعض منافق لوگ اسے اُتارنا چاہیں گے لیکن تم اسے ہرگز نہ اُتارنا۔یہ حدیث بھی اس مسئلہ میں نہایت واضح اور صاف ہے کیونکہ اس میں ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم بالکل قطعی اور غیر مشکوک الفاظ میں خلافت کے تقرر کو خدا تعالیٰ کی طرف اور عزل کی کوشش کو لوگوں کی طرف بلکہ لوگوں میں سے بھی منافقوں کی طرف منسوب فرماتے ہیں اور پھر یہ بھی ایک مسلم حقیقت ہے کہ نہ صرف خود حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بلکہ بلا استثناء تمام عالم اسلامی نے اس بات پر اجماع کیا ہے کہ اس حدیث میں حضرت عثمان کی خلافت اور بعد میں بعض لوگوں کی طرف سے ان کے عزل کی کوشش کی طرف اشارہ ہے۔بلکہ ایک دوسری روایت میں یہاں تک ذکر آتا ہے کہ جب بلوائیوں نے جمع ہو کر حضرت عثمان کو خلافت سے دستبردار ہونے کے لئے کہا اور اس مطالبہ پر دھمکی کے رنگ میں زوردیا تو انہوں نے اس حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بڑی جرات کے ساتھ فرمایا کہ۔لَا أَخْلَعُ سِرُ بالاسر بَيْنَهُ الله ( تاریخ طبری مؤلف محمد بن جریر الطمری ابوجعفر باب ذكر الخمر عن قبلہ وکیف شیل) یعنی میں اس عبا کو ہر گز نہیں اتاؤں گا جو خدا نے مجھے پہنائی ہے۔اور پھر اتنی 80 سالہ بوڑھے مگر غیرت مند اور بہادر خلیفہ برحق نے بلوائیوں کے ظلم کا شکار بن کر اپنی جان دے دی مگر اس مقدس قمیص کے دامن کو نہیں چھوڑا جو خدا تعالیٰ نے اس کے کندھوں پر ڈالی تھی۔اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز جمال اور مثیل مثالی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ آتا ہے۔آپ کی تحریرات اور ارشادات بھی اس معاملہ میں روز روشن کی طرح واضح ہیں مگر میں اس جگہ صرف دو حوالوں پر اکتفا کروں گا۔فرماتے ہیں۔” جب کوئی رسول یا مشائخ وفات پاتے ہیں تو دنیا میں ایک زلزلہ آ جاتا ہے اور وہ ایک بہت ہی خطرناک وقت ہوتا ہے مگر خدا کسی خلیفہ کے ذریعہ اسے مٹاتا ہے اور پھر گویا از سرنو اس خلیفہ کے ذریعہ