مضامین بشیر (جلد 3) — Page 514
مضامین بشیر جلد سوم 514 کے چندے اور وصیت کا چندہ اور جلسہ سالانہ کا چندہ اور نئی تحریک وقف جدید وغیرہ کا چندہ سب نہایت اہم اور نہایت مبارک چندے ہیں۔اور لاریب یہ تمام چندے مِمَّا رَزَقُنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقره: 4) میں شامل ہیں جس کے متعلق قرآن مجید نے اپنے شروع میں ہی بہت تاکید فرمائی ہے۔(3) لین دین اور تجارت میں بد دیانتی کی بدی بھی اس زمانہ میں بہت بھیانک صورت اختیار کر گئی ہے۔جس کا نہ صرف انسان کے اخلاق پر بلکہ مجموعی نیک نامی پر بھی بھاری اثر پڑتا ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ مَنْ غَشَ فَلَيْسَ مِنِی۔یعنی جو شخص دوسروں کے ساتھ دھو کا کرتا اور خیانت کا رویہ اختیار کرتا ہے اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ہر سچے مسلمان کو ڈرانے کے لئے کافی ہونا چاہئے۔قرآن مجید نے بھی ایسے لوگوں کے لئے جو دھو کا کرتے اور دوسروں کا حق مارتے ہیں ویل یعنی ہلاکت کی تہدید ( انذار ) فرمائی ہے۔اسی طرح جھوٹ بولنے کی عادت اور سودخوری بھی اسی ذیل میں آتی ہے۔سود کے متعلق قرآن فرماتا ہے کہ سود لینے والا خدا تعالیٰ سے جنگ کرنے کے لئے تیار ہو جائے۔اور جھوٹ تو گناہ کے انڈے پیدا کرنے کی سب سے بڑی مشین ہے۔(4) رشوت بھی کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ہر احمدی کا دامن اس لعنت سے اس طرح پاک ہونا چاہئے جس طرح دھوبی کے گھر سے واپس آیا ہوا کپڑا میل کچیل سے پاک ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے الرَّاشِيُّ وَالْمُرْتَشِرُ كِلَاهُمَا فِي النَّارِ۔یعنی رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا دونوں آگ میں ہیں۔کیونکہ اس سے قوم کے اخلاق تباہ ہوتے ہیں اور ملک ذلیل ہو جاتا ہے۔میں یہ باتیں صرف مثال کے طور پر لکھ رہا ہوں۔ورنہ میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا کے فضل سے احمد یہ جماعت کی بھاری اکثریت ان کمزوریوں سے پاک ہے۔(5) شراب نوشی بھی جسے أُمُّ الْخَبَائِت ( یعنی تمام بدیوں کی ماں ) کہا گیا ہے۔اس زمانہ کے مسلمانوں میں عام ہورہی ہے۔اور گو میں یقین رکھتا ہوں کہ احباب جماعت خدا کے فضل سے اس ناپاک عادت سے محفوظ ہیں لیکن آج کل یہ بدی تو تعلیم یافتہ طبقہ میں اور خصوصاً مغرب زدہ لوگوں میں ایسی عام ہو رہی ہے کہ میں ڈرتا ہوں کہ بعض خام طبع نوجوان اور خصوصاً فوجی نوجوان اس کمزوری میں مبتلا نہ ہو جائیں کہ خود تو شراب سے کنارہ کش رہیں لیکن اپنی دعوتوں میں دوسروں کو شراب پلا دیا کریں۔حالانکہ یہ فعل بھی رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کے سراسر خلاف ہے۔اسی طرح جو ا بھی شراب کی طرح بہت مخرب اخلاقی بدی ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید نے اسے شراب کے ذکر کے ساتھ ملا کر بیان کیا ہے۔آج