مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 31 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 31

مضامین بشیر جلد سوم 31 پھر اس کے بعد بنی اسرائیل کی انفرادی خلافت کے وسطی نقطہ کے متعلق فرماتا ہے:۔يَا دَاوُدُ إِنَّا جَعَلْنَكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ ( ص: 26) یعنی اے داؤد ! ہم نے تجھے ملک میں اپنا خلیفہ مقرر کیا ہے۔اور بالآخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں انفرادی اور قومی خلافت کے متعلق مخلوط طور پر اصولی رنگ میں فرماتا ہے کہ:۔وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا (النور:56) یعنی اے مسلمانو ! اللہ تعالیٰ وعدہ کرتا ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے کہ وہ ضرور ضر ور انہیں دنیا میں خلیفہ بنائے گا۔جس طرح کہ اس نے ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا اور وہ ان کے ذریعہ اس دین کو جو اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے دنیا میں مضبوط اور مستحکم کر دے گا اور ان کی خوف کی حالت کو امن سے بدل دے گا۔اس آیت میں جو آیت استخلاف کہلاتی ہے اور قرآن کریم کی اہم ترین آیات میں سے ہے چوٹی کے مومنوں کے لئے انفرادی خلافت کا اور عام مسلمانوں کے لئے قومی خلافت کا وعدہ دیا گیا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ”شہادت القرآن میں اپنی خدا دا د خلافت کے متعلق اور رسالہ الوصیت میں حضرت ابو بکر کی خلافت کے متعلق اسی قرآنی آیت سے استدلال فرمایا ہے اور یہی حال دوسری قرآنی آیات کا ہے جن میں بلا استثناء ہر جگہ خدا تعالیٰ نے خلفاء کے تقرر کولاز مأخود اپنی طرف منسوب کیا ہے جو اس بات کا قطعی اور یقینی ثبوت ہے کہ خلافت کے معاملہ کو خواہ وہ انفرادی ہے یا قومی خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔اگر اس جگہ کسی شخص کو یہ اعتراض پیدا ہو کہ خدا تعالیٰ نے تو قرآن شریف میں ضلالت اور گمراہی تک کو اپنی طرف منسوب کیا ہے اور خلافت کی کوئی خصوصیت نہیں تو یہ ایک جہالت کا اعتراض ہوگا۔کیونکہ خلافت ایک اعلیٰ درجہ کا انعام اور اکرام ہے اور گمراہی ایک انتہا درجہ کی بدبختی اور محرومی ہے۔پس خدا تعالیٰ کی طرف ان دونوں چیزوں کی نسبت کبھی بھی ایک رنگ میں نہیں سمجھی جاسکتی اور حق یہی ہے کہ جہاں خلافت کا انعام خدا کی مشیت اور خوشنودی کے اظہار کے لئے خدا کی طرف منسوب کیا گیا ہے وہاں ضلالت اور گمراہی کی نسبت صرف اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ہے کہ کسی شخص کا گمراہ ہونا خدا تعالیٰ کے اس قانون کے