مضامین بشیر (جلد 3) — Page 498
مضامین بشیر جلد سوم 498 ان کی طرف کوئی اشارہ تھا۔بلکہ اگر ایڈیٹر صاحب پیغام صلح یا ان کے نامہ نگار اسلم پرویز تقویٰ اور انصاف سے کام لیتے تو یہ مضمون ایسا تھا کہ انہیں اس کی تائید میں آواز اٹھانی چاہئے تھی نہ کہ اس کے خلاف۔دوسرے جس رنگ میں اسلم صاحب نے یہ مضمون لکھا ہے وہ ( مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ) تقویٰ اور خشیت اللہ تو کجا معمولی عقل اور شرافت کے معیار سے بھی گرا ہوا ہے۔کیونکہ وہ اول سے لے کر آخر تک یا تو سراسر لاتعلق باتوں سے بھرا ہوا ہے یا اس میں ایسے ناپاک طعن وتشنیع سے کام لیا گیا ہے جسے سپر د قلم کرنا تو در کنار ایک شریف انسان کو اس کے پڑھنے میں بھی شرم محسوس ہونی چاہئے۔مضمون کا عنوان یہ رکھا گیا ہے کہ قادیانی منجھلے میاں کا مجوزہ لائحہ عمل گویا بسم الله ہی ایک شرمناک طعن سے شروع کی گئی ہے۔اور اسلم صاحب نے یہ محاورہ اپنے مضمون میں بار بارڈ ہرایا ہے اور بعض جگہ استہزاء کے رنگ میں ” منجھلے میاں“ کے الفاظ کو کاموں کے اندر رکھ کر اسے نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے۔یہ وہ الفاظ ہیں جن میں حضرت ام المومنین نوراللہ مرقدھا مجھے اکثر پیار کے رنگ میں پکارا کرتی تھیں۔میں نہیں جانتا کہ یہ اسلم پرویز کون ہیں لیکن اگر وہ احمدی کہلاتے ہیں تو انہیں حضرت ام المومنین مغفورہ مرحومہ کے محبت والے کلام کو استہزاء کے رنگ میں استعمال کرتے ہوئے شرم آنی چاہئے تھی۔اور میری طرف سے ان کے اس استہزاء کا یہ جواب کافی ہے جو اس قرآنی آیت میں اصولی طور پر بیان کیا گیا ہے کہ: إِذَا جَاءَ كَ الْمُنْفِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللهِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ ۖ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنْفِقِينَ لَكَذِبُونَ (المنافقون:2) جس کا مطلب یہ ہے کہ اسلم پرویز صاحب نے جو الفاظ میرے متعلق استعمال کئے ہیں وہ گو واقعہ کے لحاظ سے درست ہیں مگر پھر بھی خدا کے نزدیک اسلم صاحب جھوٹے ہیں۔کیونکہ انہوں نے یہ الفاظ دل سے نہیں کہے بلکہ تمسخر اور مذاق کے رنگ میں استعمال کئے ہیں۔میں نے اسلم پرویز صاحب کی یہ بات ان کی گندی ذہنیت کے اظہار کے لئے صرف مثال کے طور پر بیان کی ہے ورنہ ان کا مضمون اول سے لے کر آخر تک نہایت گندے طعن وتشنیع سے بھرا پڑا ہے۔اور سنجیدگی اور خدا ترسی اور شرافت کے جذبہ سے اس طرح خالی ہے جس طرح ایک اجڑا ہوا مکان مکین سے خالی ہوتا ہے اور وہ لغویات کے ایک نا پاک طومار سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا۔اس لئے اس کے جواب میں میرے لئے ہمارے آسمانی آقا کی یہ ہدایت بس ہے کہ : الَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ (المؤمنون:4)