مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 30 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 30

مضامین بشیر جلد سوم 30 خاص تصرف کے ماتحت قائم ہوتا ہے۔اور گو اس میں نبوت کے قیام کی طرح خدا تعالی اپنی وحی جلی کو کام میں لا کر منظر عام پر نہیں آتا۔مگر اس کی وحی خفی یعنی اس کی تقدیر خاص کی مخفی تاریں مومنوں کے قلوب پر تصرف کر کے ان کی رائے کو اس شخص کی طرف جسے خدا تعالیٰ خلیفہ بنانا چاہتا ہے۔اس طرح مائل کر دیتی ہیں کہ وہ منظور ایزدی شخص کے سوا کسی اور کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔یہ حقیقت اسلام اور احمدیت کی تعلیم اور اسلام اور احمدیت کی تاریخ سے اس وضاحت کے ساتھ ثابت ہے کہ کوئی دانا شخص جو غور اور تدبر کا مادہ رکھتا ہے۔اس سے انکار نہیں کر سکتا۔قرآن اور حدیث اور خلفائے راشدین کے اقوال وحالات اور پھر اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم اور آپ کے بعد حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے ارشادات سب کے سب بلا استثناء اس حقیقت کے گواہ اور شاہد ہیں کہ گو خلفاء کے انتخاب میں بظاہر مومنوں کی زبان چلتی ہے۔مگر حقیقتا تصرف خدا تعالیٰ کا ہوتا ہے۔اور ایک نبی یا سابقہ خلیفہ کی وفات پر آسمانی چرواہے کا مخفی عصا مومن بھیڑوں کو جو اس وقت انتشار کی حالت میں ہوتی ہیں، گھیر گھیر کر ایک محفوظ احاطہ میں جمع کر دیتا ہے۔سب سے پہلے میں قرآن مجید کو لیتا ہوں۔جو خدائے علیم وحکیم کا کلام اور ہمارے نظامِ روحانی کا مرکزی نقطہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بارہ (12) مختلف مقامات پر خلافت کا ذکر فرمایا ہے۔ان میں سے بعض میں قومی خلافت مراد ہے اور بعض میں انفرادی خلافت مراد ہے اور بعض میں مخلوط مضمون ہے۔پھر انفرادی خلافت میں سے بعض جگہ مامور خلیفہ مراد ہے اور بعض جگہ غیر مامور خلیفہ مراد ہے۔مگر ان سب مقامات میں بلا استثناء ہر جگہ خدا تعالیٰ نے خلافت کو خواہ وہ کسی قسم کی ہے خود اپنی طرف منسوب کیا ہے۔اگر کسی شخص کو شوق ہو تو سورہ بقرہ آیت 31 اور سورۃ انعام آیت 134 اور پھر سورہ انعام آیت 166 اور سورہ اعراف آیت 70 اور پھر سورہ اعراف آیت 130 اور سورہ یونس آیت 15 اور پھر سورہ یونس آیت 74 اور سورہ ہود آیت 58 اور سورہ نورآیت 56 اور سورہ نمل آیت 63 اور سورۃ فاطر آیت 40 اور بالآخر سورہ ص آیت 27 کا مطالعہ کر سکتا ہے میں اس جگہ نمونہ کے طور پر صرف تین آیتوں کے اندراج پر اکتفا کرتا ہوں۔نسل انسانی میں انفرادی خلافت کے آغاز کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً (البقره:31) یعنی اے محمد رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اس نظارہ کو یاد کر جبکہ تیرے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں اس دنیا میں آسمانی ہدایت کا آغاز ایک شخص کو خلیفہ بنا کر کرنے لگا ہوں۔