مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 489 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 489

مضامین بشیر جلد سوم اللهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ (يوسف:22) یعنی خدا اپنی تقدیر پر بھی غالب ہے اور اسے بدلنے کی طاقت رکھتا ہے 489 بلکہ اگر بالفرض کوئی تلخ تقدیر ایسی ہو جو کسی صورت میں بھی ملنے والی نہ ہو تو پھر بھی اللہ تعالیٰ اس کے پیچھے اپنی کوئی شیریں تقدیر لا کر پیش آمدہ غم اور صدمہ کا ازالہ فرما سکتا ہے۔جیسا کہ وہ اپنے کلام پاک میں فرماتا ہے کہ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً (الم نشرح : 7) یعنی خدا نے اپنے نیک بندوں کے لئے ہر تنگی کے ساتھ فراخی مقدر کر رکھی ہے۔اور اس کی تشریح میں مولانا رومی فرماتے ہیں کہ ہر بلا کیں قوم را حق داده اند آں اند زیر آن گنج کرم بنهاده یعنی ہر ابتلاء جو خدا اپنے بندوں کے لئے مقدر کرتا ہے اس کے نیچے اس نے اپنے فضلوں اور نعمتوں کا ایک بڑا خزانہ چھپارکھا ہوتا ہے۔پس خدا کی رحمت و قدرت پر بھروسہ کرتے ہوئے مجھے خوابوں کی وجہ سے تو زیادہ فکر نہیں کیونکہ جو خدا کوئی منذ رخواب دکھا سکتا ہے وہ اسے مٹا بھی سکتا ہے۔اور نہ مٹنے کی صورت میں اس کے ازالہ کا کوئی اور رستہ بھی کھول سکتا ہے۔مگر ضروری ہے کہ ہم سنت نبوی کے مطابق اپنے پیش آمدہ مسائل اور حالات اور ہر قسم کے امکانی خطرات کا جائزہ لے کر اور کمر ہمت کس کر اصلاح وارشاد اور صبر وصلوٰۃ کے عزم کے ساتھ نئے سال میں قدم رکھیں اور اسی غرض سے میں یہ نوٹ لکھ رہا ہوں۔مگر میں اس جگہ کسی تفصیل میں نہیں جاؤں گا اور جائزہ کے سوال کو بھی میں ہر مخلص اور تدبر کرنے والے احمدی کے غور وفکر پر چھوڑتا ہوں۔اور صرف نہایت اختصار کے ساتھ ان چند باتوں کے ذکر پر اکتفا کرتا ہوں جن کی طرف اس وقت خاص توجہ کی ضرورت ہے۔کاش میرے بزرگ اور میرے دوست اور میرے عزیز ان باتوں کی اہمیت کو سمجھیں اور حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ان کی طرف توجہ دیں ورنہ وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ وَ حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيل- (1) سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اس وقت جماعت کا نوجوان طبقہ اور خصوصاً وہ طبقہ جونسلی احمدی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام یا خلیفہ وقت کے ساتھ براہ راست پیوندی جوڑ نہیں رکھتا اور گویا صرف تخمی رشتہ کا حامل ہے۔اس کا ایک حصہ بعض کمزوریوں میں مبتلا ہے اور اسے اخلاص اور عملِ صالح میں وہ مقام حاصل نہیں جو خدا تعالیٰ کی نصرت کا جاذب ہوا کرتا ہے۔اور نہ ہی یہ طبقہ غیر از جماعت لوگوں ( یعنی