مضامین بشیر (جلد 3) — Page 488
مضامین بشیر جلد سوم 4 نیا سال اور ہماری ذمہ داریاں جماعت کے تین خاص فریضے 488 نیا سال شروع ہو چکا ہے اور ہر نیا زمانہ لازماً اپنے ساتھ نئے مسائل اور نئی ذمہ داریاں لایا کرتا ہے۔اسی لئے ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی ہے کہ جب نیا چاند دیکھو ( جو گردشِ زمانہ کی ظاہری علامت ہے ) تو خدا سے دعا کرو کہ وہ اس چاند سے شروع ہونے والے مہینہ کو تمہارے لئے مبارک کرے۔اس ارشاد نبوی میں یہ اصولی اشارہ ہے کہ ہر نئے زمانہ اور ہر نئے دور کے آغا ز کو یونہی غفلت میں نہ گزار دیا کرو بلکہ آنے والے مسائل اور آنے والی ذمہ داریوں پر غور کر کے خدا تعالیٰ سے نصرت اور روشنی کے طالب ہوا کرو۔سواب جب کہ ہماری انفرادی اور جماعتی زندگی کا بھی ایک نیا سال شروع ہورہا ہے ( بلکہ 12 جنوری سے تو یہ سال قیام جماعت اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ کی تاریخ ولادت کے لحاظ سے بھی نیا سال ہے ) ہمیں اسلام اور احمدیت کے لئے اور حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کے لئے اور اپنے عزیز واقارب اور دوستوں کے لئے بلکہ ساری دنیا کے لئے خیر و خوبی اور افضال و برکات اور غلبہ صداقت کے لئے دعائیں کرتے ہوئے قدم رکھنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی ازلی حکمت کے ماتحت زمانہ کو اس طرح تقسیم کر رکھا ہے کہ وہ ٹھسر وئیر اور سَراءَ وَ ضَرًّا اور نور وظلمت کے درمیان چکر لگاتارہتا ہے اور بسا اوقات پھولوں کی وادیوں تک پہنچنے کے لئے کانٹوں کے رستوں میں سے گزرنا پڑتا ہے۔پس گو ہمیں خدائی وعدوں کے مطابق اسلام اور احمدیت کے آخری غلبہ اور جماعت کی عالمگیر ترقی کے متعلق کامل یقین ہے کہ قضاء آسمان است ایں بہر حالت شود پیدا۔لیکن ہم نہیں جانتے کہ درمیان کیا کیا مشکلات اور کیا کیا ابتلاء مقدر ہیں اور نئے سال کے متعلق تو بعض دوستوں کو ایسی خوا میں بھی آئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ غالبا اس سال کے دوران میں بعض لحاظ سے بعض مشکلات اور امتحانوں کا سامنا ہونے والا ہے۔بلکہ خود مجھے بھی 31 دسمبر اور یکم جنوری کی درمیانی رات میں جو نئے سال کی پہلی رات تھی ایک زلزلہ کا نظارہ دکھایا گیا۔اور گوخوابوں کی حقیقی تعبیر خدا ہی جانتا ہے لیکن اگر جماعت کے لئے کوئی امتحان در پیش ہے تو پھر بھی گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ ہمارے خدائے قدیر و علیم کو یہ طاقت حاصل ہے کہ وہ اپنی تقدیر کو بھی بدل سکتا ہے۔جیسا کہ وہ خود قرآن مجید میں فرماتا ہے: