مضامین بشیر (جلد 3) — Page 475
مضامین بشیر جلد سوم 475 بلکہ جماعت کی بھی ایک اعلیٰ درجہ کی خدمت بجا لاتا اور اس کی مسلسل ترقی کا راستہ کھولتا ہے۔بہر حال 1957ء میں وفات پانے والے بزرگوں اور ممتاز دوستوں کے نام یہ ہیں : (1) حضرت مفتی محمد صادق صاحب (2) حضرت ڈاکٹر سید غلام غوث صاحب (3) حضرت مولوی علی احمد صاحب بھاگلپوری (4) حضرت بھائی چوہدری عبدالرحیم صاحب (5) حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی حضرت سیٹھ اسمعیل آدم صاحب (6) (7) مکرم محترم شیخ عبدالحق صاحب اور (8) محترم ملک عبد الرحمن صاحب خادم أَدْخِلُهُمْ فِي أَعْلَى عِلِّيِّين اسی طرح تمام دوسرے مرنے والے بھائیوں کو بھی اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ہمیں ان کے اجر سے محروم نہ ہونے دے۔آميْنَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔محررہ 31 دسمبر 1958ء) (روز نامہ الفضل ربوہ 3 جنوری 1958ء) مکرم ملک عبدالرحمن صاحب خادم مرحوم سنتالیس (47) سال کی عمر اور خادم صاحب کا آخری خط مکرم ملک عبدالرحمن صاحب خادم مرحوم و مغفور کے متعلق ایک نوٹ الفضل میں بھجوا چکا ہوں۔خادم صاحب مرحوم کا جنازہ گجرات سے ہوتا ہوا ڈیڑھ بجے بعد دو پہر ربوہ پہنچ گیا تھا۔جہاں حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے بعد نماز عصر ایک بہت بڑی جماعت کے ساتھ نماز جنازہ ادا کی۔اور اس کے بعد نماز مغرب کے قریب مرحوم کو مقبرہ بہشتی رہوہ میں سینکڑوں لوگوں کی دلی دعاؤں کے ساتھ دفن کیا گیا۔نماز جنازہ کے وقت اور اس کے بعد حضرت خلیفہ ایسی ایدہ اللہ کا دل اس صدمہ سے بہت متاثر معلوم ہوتا تھا۔اللہ تعالیٰ