مضامین بشیر (جلد 3) — Page 473
مضامین بشیر جلد سوم 1 خادم صاحب بھی خدا کو پیارے ہوئے 473 كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَان ويَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلِ وَالْإِكْرَامِ محترم ملک عبد الرحمن صاحب خادم کی وفات کی خبر کی اطلاع اخبار الفضل کو کرتے وقت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے جو نوٹ بھجوایا اس میں مکرم خادم صاحب کے اوصاف یوں تحریر فرمائے۔خادم صاحب کے والد محترم حضرت برکت علی خان صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے اور ابھی چند سال ہی ہوئے ہیں کہ انہوں نے وفات پائی اور ربوہ میں دفن ہوئے۔خادم صاحب مرحوم ایک بہادر مرد مجاہد تھے اور جب سے انہوں نے ہوش سنبھالا تقریری اور تحریری تبلیغ کے میدان میں صف اول میں رہے اور مخالفوں کے مقابل پر گویا ایک برہنہ تلوار تھے۔اور عقائد صحیحہ میں ان کا قدم ہمیشہ ایک مضبوط چٹان پر قائم رہا اور اندرونی اور بیرونی مخالفت نے ان کے پائے ثبات میں کبھی لغزش نہیں آنے دی۔اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ "فَضَّلَ اللهُ الْمُجَاهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمُ عَلَى الْقَعِدِينَ دَرَجَةً (النساء: (96) یعنی ہم نے دین کے راستہ میں جہاد کرنے والوں کو مجاہد مومنوں پر بھاری امتیاز اور بھاری درجہ عطا کیا ہے۔اس لئے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ خادم صاحب مرحوم کو اپنی جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے گا۔مذہبی مباحثات کے میدان میں خادم صاحب کا وجود گویا حوالہ جات کا ایک وسیع خزانہ تھا۔اور ان کی تصنیف ”احمدیہ پاکٹ بک ہمیشہ ایک یادگاری تصنیف رہے گی۔اسی طرح 1953ء کے تحقیقاتی کمیشن میں اور اس کے بعد گزشتہ فتنہ کے تعلق میں بھی خادم صاحب کی خدمات بہت قابل قدر تھیں۔اور مناظرہ کے میدان میں تو وہ ایک بہادر شیر تھے جو کسی مخالف طاقت سے مرعوب نہیں ہوتے تھے۔بلکہ حق کی تائید میں انہیں اس درجہ خدا پر بھروسہ تھا کہ گھبراہٹ تو دور کی بات ہے وہ اپنی حاضر جوابی اور لطائف سے مجلس مناظرہ میں بھی شگفتگی پیدا کر دیتے تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے بیوی بچوں اور دیگر عزیزوں کو جو ان کے نقش قدم پر ہیں اپنے فضل و رحمت کے سایہ میں رکھے اور دین و دنیا میں ان کا حافظ و ناصر ہو۔اور ان کے بھٹکے ہوئے عزیزوں کو بھی ہدایت فرمائے۔آمین جیسا کہ میں نے حضرت عرفانی مرحوم کی وفات پر نوٹ لکھتے ہوئے ذکر کیا تھا سال 1957 ء میں ہمیں بہت سے بزرگوں اور دوستوں کی جدائی کا صدمہ برداشت کرنا پڑا ہے۔بلکہ عرفانی صاحب کے بعد بھی تین اور ممتاز بزرگ اور دوست بھی ہم سے جدا ہو گئے ہیں۔چنانچہ عرفانی صاحب کی وفات کے دو دن بعد حضرت