مضامین بشیر (جلد 3) — Page 461
مضامین بشیر جلد سوم 461 چوتھے ان کا موں کو چلانے کے لئے روپے کی فراہمی۔پس یہی وہ نصب العین ہے جو انصار اللہ کے مد نظر ہونا چاہئے۔یہی وہ مقصد تھا جس کے لئے حضرت مسیح ناصری نے من أَنْصَارِی إِلَی اللہ کا نعرہ لگا کر خدائی مددگاروں کو کام کی دعوت دی۔اور یہی وہ عظیم الشان مقصد ہے جس کے لئے ہمارے آقا حضرت مسیح موعود علیہ السلام مبعوث ہوئے۔صرف فرق یہ ہے کہ حضرت مسیح ناصری کا کام بہت مختصر اور صرف بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیٹروں تک محدود تھا۔لیکن مسیح محمدی کا کام ساری دنیا پر وسیع ہے۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ الہام ہوا کہ : ہم ایک نیا آسمان اور نئی زمین بنائیں گے اس سے ظاہر ہے کہ احمدیت ایک عالمگیر انقلاب کا پیغام لے کر آئی ہے۔لہذا ہمیں چاہئے کہ کنوئیں کے مینڈک بن کر نہ رہیں بلکہ اپنی نظروں کو چارا کناف عالم تک وسیع کر کے اور دنیا بھر کے مسائل کا جائزہ لے کر اس انقلاب کے لئے تیاری کریں جو خدا تعالیٰ احمدیت کے ذریعہ دنیا میں پیدا کرنا چاہتا ہے۔اور احمدیت کا پیغام در اصل اسلام ہی کے دور ثانی کا پیغام ہے جس میں ہمارا خدا اسلام کو ساری دنیا میں اور ساری اقوام پر غالب کرنا چاہتا ہے۔پس: بع بکوشید اے جواناں تا بدین قوت شود پیدا بہارو رونق اندر روضه ملت شود پیدا بمفت ایں اجر نصرت را دہندت اے اخی ورنہ قضائے آسمان است ایں بہر حالت شود پیدا ان اشعار میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی ساری جماعت کو جوانان کے الفاظ سے مخاطب کیا ہے۔اس لئے نہیں کہ وہ سب جوان ہیں بلکہ اس لئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سب احمدیوں میں جوانوں جیسی ہمت دیکھنا چاہتے ہیں۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔آمین یا ارحم الراحمین محرره 26 اکتوبر 1957ء) (روزنامه الفضل ربوہ یکم نومبر 1957ء)