مضامین بشیر (جلد 3) — Page 450
مضامین بشیر جلد سوم سوشل بائیکاٹ کا غلط الزام ہمارے کرم فرما اخبار غور فرمائیں 450 کچھ عرصہ سے بعض اخباروں میں دانستہ یا نا دانستہ یہ اعتراض کیا جا رہا ہے کہ جماعت احمد یہ اپنے بعض افراد یا اپنے میں سے نکالے ہوئے بعض افراد کا سوشل بائیکاٹ کر کے ملک میں بے چینی کا موجب بن رہی ہے۔اور معترضین کی طرف سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان حالات میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی اختلاف کی بناء پر جماعت احمد یہ دوسرے لوگوں کا سوشل بائیکاٹ کر سکتی ہے تو پھر اگر دوسرے مسلمان بھی اس قسم کے اختلاف کی بناء پر جماعت کا بائیکاٹ کریں تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔یہ وہ سوال ہے جو آج کل بعض غیر احمدی اخباروں کی طرف سے اٹھایا جا رہا ہے۔اور زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ نہ صرف عام مخالف اخبارات یہ اعتراض کر رہے ہیں بلکہ بعض ثقہ اور سمجھدار اخباروں کی طرف سے بھی حال میں اسی قسم کا اعتراض کیا گیا ہے۔اور ( لفظ پڑھا نہیں جارہا۔ناقل ) کو الفضل نے اس اعتراض کی تردید کی ہے اور تشریح کے ساتھ سمجھایا ہے کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے کبھی کسی شخص کا ایسا سوشل بائیکاٹ نہیں کیا گیا جو اسلامی تعلیم کے خلاف اور انسانیت کے بنیادی حقوق کے منافی ہو۔بلکہ صرف تنظیمی رنگ میں بعض فتنہ پیدا کرنے والے افراد کے خلاف گا ہے گا ہے ایسی کارروائی کی گئی ہے جو حقیقی معنی میں ہرگز سوشل بائیکاٹ کا رنگ نہیں رکھتی۔اور نہ ہی اسلامی تعلیم کے مطابق اس پر کوئی اعتراض ہو سکتا ہے۔بلکہ وہ صرف ایک جزوی اور محدود مقاطعہ کا رنگ رکھتی ہے۔اور ایسا جزوی اور محدود مقاطعہ خود ہمارے آقا فداہ نفسی کی سنت سے بھی ثابت ہے۔جس کی غرض و غایت محض یہ ہوتی ہے کہ جماعتی نظم وضبط کو توڑنے والے شخص کو اس کے جرم کا احساس پیدا کرانے اور اصلاح کی طرف مائل کرنے کے لئے اس کے خلاف کوئی وقتی تادیبی کارروائی کی جائے۔مثلاً صحیح بخاری سے ( جو قرآن مجید کے بعد اصح الکتب سمجھی گئی ہے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر اپنے تین صحابیوں کو ایک غلطی کے ارتکاب پر مقاطعہ کی سزا دی تھی۔مگر ساتھ ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ صراحت فرما دی تھی کہ اس مقاطعہ میں صرف کلام ، سلام یا دوستانہ تعلقات کی ممانعت ہے۔دور نہ بنیادی انسانی حقوق پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑنا چاہئے۔چنانچہ بخاری میں حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ جو ایک ممتاز انصاری صحابی تھے ، روایت کرتے ہیں کہ : غزوہ تبوک کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ ان تین صحابیوں کے ساتھ