مضامین بشیر (جلد 3) — Page 25
مضامین بشیر جلد سوم 25 ہیں۔مجھے کئی ماہ کے بعد رستہ میں نظر آئے۔میں انہیں دیکھ کر رک گیا۔اور بعد سلام مسنون ان کی خیریت پوچھی۔انہوں نے میرے سلام کا جواب دیا اور بالمقابل مجھ سے بھی پوچھا کہ کیا آپ راضی ہیں؟ اس وقت بے ساختہ میری زبان سے یہ الفاظ نکلے کہ ”ہاں شکر ہے۔میں اپنے خدا پر بالکل راضی ہوں“۔انہوں نے کہا کہ خدا پر تو ہر شخص راضی ہوتا ہے۔میں نے کہا۔”بیشک یہ درست ہے۔مگر کوئی شخص شرح صدر سے راضی ہوتا ہے۔اور کوئی اس مجبوری کی وجہ سے راضی ہوتا ہے کہ خدا کی تقدیر کو قبول کرنے کے بغیر چارہ نہیں۔لیکن الْحَمْدُ لِلہ میں اپنے خدا پر شرح صدر سے راضی ہوں“ اس پر یہ دوست تو مسکرا کر چلے گئے مگر میں اپنی جگہ سوچ میں پڑ گیا اور اپنے نفس سے پوچھنے لگا کہ تو نے یہ الفاظ تو کہہ دیئے لیکن کیا تو واقعی اپنے خدا پر شرح صدر سے راضی ہے؟ اور اس کی ہر تقدیر کو خواہ وہ شیر میں تقدیر ہو یا کہ تلخ۔شرح صدر سے قبول کرتا ہے؟ اور پھر میں نے اپنے دل کے سارے گوشوں میں جھانک کر اور کونے کونے کا جائزہ لے کر آخر یہی نتیجہ نکالا کہ میں خدا کے فضل سے اور اسی کی دی ہوئی توفیق کے ساتھ اپنے خدا پر اور اس کی ہر تقدیر پر پورے شرح صدر کے ساتھ راضی ہوں۔میں نے سوچا کہ بیشک انسان کا جسم جو گوشت پوست سے مرکب ہے۔بہت کمزور ہے۔اور بعض باتوں پر تکلیف محسوس کرتا اور بے چین ہوتا ہے۔حتی کہ بعض اوقات اس کی بے چینی انتہا کو پہنچ جاتی ہے۔مگر سچے مومن کی روح ہر حال میں اپنے آسمانی آقا سے راضی رہتی اور اس کی ہر تقدیر کو شرح صدر کے ساتھ قبول کرتی ہے۔اور یہی وہ مقام ہے جو دنیا کی مقدس ترین جماعت یعنی صحابہ کرام کو حاصل ہوا تھا۔جیسا کہ قرآن شریف فرماتا ہے رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ (المائدة: 120) یعنی خدا صحابہ کی جماعت پر راضی تھا اور صحابہ اپنے خدا پر راضی تھے۔دنیوی لحاظ سے صحابہ کو بے شمار تکلیفیں پیش آئیں مگر وہ رَضُوا عَنْهُ کے مقام سے سر موادھر ادھر نہیں ہوئے اور یہی وہ حالت ہے جس کی طرف حضرت مسیح ناصری نے واقعہ صلیب کے وقت جبکہ انہیں اپنا سولی پر لٹکایا جانا گو یا آنکھوں کے سامنے نظر آ رہا تھا ان تاریخی الفاظ میں اشارہ کیا تھا کہ:۔روح تو مستعد ہے مگر جسم کمزور ہے“ پس کچی بات یہی ہے کہ خواہ جسم کتنا ہی کمزور ہو۔( اور جسم واقعی ایک نہایت کمزور چیز ہے ) اور خواہ کوئی مصیبت کتنی ہی سختی کے ساتھ انسان پر وارد ہو۔سچے مومن کی روح ہر حال میں صبر وشکر کے جذبات کے ساتھ خدا کے آستانہ پر گری رہتی ہے۔صبر اس لئے کہ ہر مصیبت کے وقت خدا نے صبر کرنے کی تاکید کی ہے اور حقیقتا صبر کے بغیر چارہ بھی نہیں۔اور شکر اس لئے کہ خواہ کسی شخص کی مصیبت کتنی ہی سخت ہو۔دنیا میں ایسے