مضامین بشیر (جلد 3) — Page 24
مضامین بشیر جلد سوم 24 چکے ہیں مگر خدا تعالیٰ نے لالہ ملا وامل صاحب کو بڑی لمبی عمر عطا فرمائی اور بالآخر انہیں اس نیکی کی توفیق دی کہ فسادات 1947 ء کے پُر آشوب زمانہ میں ان کا رویہ بہت شریفانہ رہا۔اور جہاں بہت سے ایسے غیر مسلم بھی فتنہ کی رو میں بہہ گئے۔جن کے ساتھ جماعت احمد یہ خاص احسان کا سلوک کر چکی تھی۔وہاں لالہ ملا وامل صاحب کا رویہ بہت قابل تعریف رہا۔چنانچہ ان ایام میں لالہ صاحب موصوف نے اپنے اکلوتے لڑکے لالہ دا تا رام صاحب کو بلا کر تاکید کی کہ بیٹا! دیکھنا تم اس شرارت اور لوٹ مار میں ہرگز کوئی حصہ نہ لینا اور یہاں تک کہا کہ مرزا صاحب کی پیشگوئی ہے کہ ہم قادیان سے نکل کر پھر واپس آئیں گے۔اور یہ بات ضرور پوری ہوگی۔بلکہ سنا گیا ہے کہ لالہ ملا وامل صاحب نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ جب یہ خاندان دنیا داری کے زمانہ میں قادیان سے نکالا جا کر پھر واپس آ گیا تھا ( یہ سکھ حکومت کے زمانہ کی بات ہے ) تو اب دین کے راستہ پر پڑ کر جبکہ مرزا صاحب کی پیشگوئی بھی ہے۔یہ کس طرح واپس نہیں آئیں گے؟ الغرض لالہ ملا وامل صاحب موصوف کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ بہت دیرینہ تعلق تھا۔اور گودرمیان میں جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں بار بار اپنے نشانوں کی شہادت کے لئے بلایا ان کا آنا جانا کم ہو گیا تھا مگر دل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پاکیزگی اور نیک صحبت کا گہرا اثر باقی تھا جو آخر وقت میں زور کر کے پھر باہر آ گیا۔لالہ ملا وامل صاحب کی عمر محترمی بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی نے 108 سال بیان کی ہے مگر یہ درست معلوم نہیں ہوتی۔کیونکہ جیسا کہ سنا گیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بارات (1884ء) میں شمولیت کے وقت وہ بالکل نوجوان تھے۔پس میرے خیال میں ان کی عمر غالباً 95 سال کے لگ بھگ تھی۔بہر حال ہمیں لالہ ملا وامل صاحب کے خاندان کے ساتھ دلی ہمدردی ہے۔اللہ تعالیٰ اس صدمہ میں ان کا حافظ و ناصر ہو۔(محرره 24 اکتوبر 1957ء) روزنامه الفضل لاہور 30 اکتوبر 1951ء) 10 رحمت خدا کی ہے اور تکلیف ہماری آج ایک دوست جو کسی زمانہ میں میرے ماتحت ہوتے تھے اور اب دوسرے صیغہ میں کام کرتے