مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 437 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 437

مضامین بشیر جلد سوم 437 (6) وہ کسی صورت میں بھی خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہوا ور خواہ اس کے نفس کی خواہشیں کتنا ہی جوش ماریں وہ ہر حال میں خدا کی رحمت اور مغفرت پر بھروسہ رکھے اور اس کے متعلق بدظنی سے کام نہ لے۔یہ وہ چھ اصولی شرائط ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس لطیف حوالہ سے ثابت ہوتی ہیں۔اور اس میں کیا شبہ ہے کہ جس شخص میں یہ شرائط پائی جائیں وہ اپنی بعض کمزوریوں کے باوجود خدائی نعمتوں کا وارث بنے گا۔اور اس کی نیکیوں اور دعاؤں اور دل کے تقویٰ کی وجہ سے فرشتے اس کی لغزشوں کے لکھنے سے رکے رہیں گے۔یہ وہی ابدی فلسفہ مغفرت ہے جس کی طرف جیسا کہ میں نے اوپر لکھا ہے قرآن مجید نے ان الفاظ میں اشارہ کیا ہے: اِنَّ الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّيَاتِ یعنی نیکیاں بدیوں کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جاتی ہیں اور خدا کے ریکارڈ میں ان کا نام ونشان نہیں چھوڑتیں۔پس آؤ کہ ہم اس رمضان کے مبارک مہینہ میں اپنے خدا سے یہ عہد کریں کہ ہم ان چھ شرائط کے پابند رہیں گے جن کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اشارہ فرمایا ہے۔یعنی ہم اپنے دلوں میں تقویٰ کا درخت لگائیں گے جو عمل صالح کی روح اور ہر ایک نیکی کی جڑ ہے۔ہم اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کے لئے ہمیشہ کوشاں رہیں گے۔ہم دعاؤں کو اپنا حرز جان بنائیں گے اور خصوصاً تہجد کے لئے جونُ اللَّيْلِ میں اٹھ کر دعاؤں کی عادت ڈالیں گے۔ہم ثابت قدمی اور مستقل مزاجی کے ساتھ ہر حال میں خدا کے دامن سے لیٹے رہیں گے اور ہم کسی صورت میں بھی اس کی رحمت سے مایوس نہیں ہوں گے۔تا کہ جب ہم قیامت کے دن خدا کے دربار میں حاضر ہوں تو ہم دیکھیں کہ ہماری نیکیاں تو چاندی کے حروف میں لکھی ہوئی نورانی کرنوں کے ساتھ چمک رہی ہیں مگر ہماری کمزوریوں کے صفحات خالی ہیں۔کیونکہ فرشتوں نے خدا کا اشارہ پا کر انہیں لکھنے سے اپنے ہاتھ روک لئے تھے۔اے خدا! تو ایسا ہی کر اور اپنے حبیب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے مسیح پاک علیہ السلام کے قدموں کے طفیل ہمیں حشر کے دن شرمندہ اور ذلیل ہونے سے محفوظ رکھ۔وَاتِنا مَا وَعَدتَّنَا عَلَى رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادِ آمِين يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ وَاخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ - ( محرر 19 اپریل 1957 ء ) روزنامه الفضل ربوہ 23 اپریل 1957ء)