مضامین بشیر (جلد 3) — Page 432
مضامین بشیر جلد سوم 432 نوٹ : رمضان اور عید الفطر کے بعد شوال کی دوسری تاریخ سے لے کر سات تاریخ تک چھ نفلی روزے رکھنا مسنون ہے اور موجب ثواب۔جس طرح نماز کے بعد کی سنتیں ہوتی ہیں یہ گویا روزوں کے بعد کی سنتیں ہیں۔( محررہ 7 اپریل 1957 ء ) (روز نامہ الفضل ربوہ 10 اپریل 1957ء) 12 رمضان کا مقدس عہد دوست اس مبارک مہینہ میں کسی کمزوری کے دُور کرنے کا عزم کریں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ اصلاح نفس کا یہ بھی ایک عمدہ اور تجربہ شدہ طریق ہے کہ دوست رمضان کے مہینہ میں اپنی کسی نہ کسی کمزوری کے دور کرنے کا عہد کیا کریں۔اس عہد کے متعلق کسی دوسرے شخص پر اظہار کرنے کی ضرورت نہیں ( کیونکہ ایسا کرنا خدا کی ستاری کے خلاف ہوگا ) صرف اپنے دل میں خدا کے ساتھ عہد کرنا چاہئے کہ میں آئندہ اپنی فلاں کمزوری سے اجتناب کروں گا۔اور کمزوری کا انتخاب ہر شخص اپنے حالات کے ماتحت خود کر سکتا ہے۔مثلاً نمازوں میں سستی، چندوں میں سستی ، جماعتی کاموں میں ستی، مقامی امراء سے عدم تعاون ، جھوٹ بولنے کی عادت، کاروبار میں دھوکا دینے کی عادت، بہتان تراشی، وعدہ خلافی ، رشوت ستانی بخش کلامی ، گالی گلوچ ، غیبت ، بدنظری ، ہمسایوں کے ساتھ بدسلوکی ، بیوی کے ساتھ بدسلوکی ، والدین کی خدمت میں غفلت ، عورتوں کے لئے اپنے خاوندوں سے نشوز ، بے پردگی ، بچوں کی تربیت میں غفلت ،سگریٹ اور حقہ نوشی ،سینما دیکھنے کی عادت ، سودی لین دین وغیرہ وغیرہ سینکڑوں قسم کی کمزوریاں ہیں جن میں ایک شخص مبتلا ہوسکتا ہے۔ان میں سے کوئی سی کمزوری اپنے خیال میں رکھ کر دل میں خدا کے ساتھ عہد کیا جائے کہ میں خدا کی توفیق سے آئندہ اس کمزوری سے کلی طور پر مجتنب رہوں گا۔اور پھر اس مقدس عہد کو مرتے دم تک اس طرح نبھا ہے کہ اپنی اس نیکی اور وفاداری سے خدا کو راضی کرلے۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بتایا