مضامین بشیر (جلد 3) — Page 426
مضامین بشیر جلد سوم 426 بھی ہوں اور یہ سوال بھی ایسے نہیں جن کے لئے آپ کو دوسروں کی امداد کی ضرورت ہو۔آپ اگر خود ذرا توجہ سے کام لیتے تو ان کا جواب آسانی سے پالیتے۔بہر حال نہایت اختصار کے ساتھ بلکہ حرفے بس است کے رنگ میں لکھتا ہوں۔(1) آپ کا پہلا سوال یہ ہے کہ ایک مومن کو کس طرح پتہ چلے کہ وہ نیکی کے کس درجہ پر ہے اور اسے مزید ترقی کے لئے کیا کرنا چاہئے؟ اس سوال کے جواب میں یہ یا درکھنا چاہئے کہ مومنوں کو اپنے ایمان اور تقویٰ میں ترقی کا اسی طرح علم حاصل ہوتا ہے اور اسی طرح کا احساس پیدا ہوتا ہے جس طرح مادی چیزوں کی دوری یا قرب کا احساس ہوا کرتا ہے۔مثلاً اگر آپ ایک لیمپ سے دور ہوں تو آپ کو اس کی روشنی مدھم نظر آئے گی لیکن جب قریب ہوں گے تو وہ تیز ہو جائے گی۔اسی طرح جب آپ کسی آگ کے قریب ہوں گے تو گرمی کی شدت زیادہ محسوس کریں گے اور جب دور ہوں گے تو اس کی شدت میں کمی آجائے گی۔اسی قسم کا احساس مومنوں کے دلوں میں اپنی روحانی ترقی یا تنزل کی صورت میں پیدا ہوا کرتا ہے اور اس احساس کا آلہ مومن کا دل ہے۔جب آپ نیکی میں ترقی کریں گے تو لازماً آپ کے دل میں خدا کی محبت کا احساس بڑھ جائے گا۔عبادت اور ذکر الہی اور باہمی محبت واخوت اور جماعتی خدمت کا جذ بہ ترقی کرتا ہوا محسوس ہوگا۔یہ ایک وجدانی کیفیت ہے جو ایک مومن خود بھی محسوس کرتا ہے اور اسے دیکھنے والے دوسرے لوگ بھی محسوس کرتے ہیں۔کیا آپ یہ نہیں دیکھتے کہ بعض لوگوں کو آپ نیکی اور تقویٰ میں زیادہ ترقی یافتہ پاتے ہیں اور بعض کو فرو تر محسوس کرتے ہیں۔بس یہی احساس انسان کی روحانی ترقی اور تنزل کا مقیاس ہے۔اور اسی راستہ پر آگے قدم اٹھانے سے مومن ترقی کر سکتا ہے۔اس کی دوسری علامت اور زیادہ پختہ علامت خدا کا سلوک ہے۔جوں جوں انسان نیکی میں ترقی کرتا ہے اس کے ساتھ خدا کا سلوک زیادہ نمایاں ہوتا جاتا ہے اور خدائی تائید ونصرت کی مخصوص علامات ظاہر ہونی شروع ہو جاتی ہیں اور اسے دعا کی قبولیت اور روحانی جاذبیت کا خلعت عطا کیا جاتا ہے۔اور وہ خدا کی حفاظت میں اس طرح آجاتا ہے کہ گویا اس کے لئے خدا خود ہر قدم پر لڑنے کو تیار نظر آتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو جب دنیا کے بندے تنگ کرتے ہیں اور انہیں ذلیل کرنا چاہتے ہیں تو خدا ان کی حمایت میں کھڑا ہوکر : ع کہتا ہے یہ تو بنده عالی جناب ہے مجھ سے لڑو اگر تمہیں لڑنے کی تاب ہے