مضامین بشیر (جلد 3) — Page 418
مضامین بشیر جلد سوم حضرت ڈاکٹر سید غلام غوث صاحب کا انتقال 418 حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے حضرت ڈاکٹر سید غلام غوث صاحب کی وفات کی اطلاع الفضل میں دی۔اس کے آخر پر آپ نے آپ کی سیرت کے بارے تحریر فرمایا۔یہ خبر جماعت میں نہایت رنج اور افسوس کے ساتھ سنی جائے گی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے قدیم اور مخلص صحابی ، جماعت کے دین دار متقی اور باخدا بزرگ حضرت سید غلام غوث صاحب 19 فروری 1957 ء کو بروز منگل صبح نو بجے لاہور میں وفات پاگئے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔وفات کے وقت آپ کی عمر 88 سال تھی۔یوں تو گزشتہ کئی ماہ سے آپ کی طبیعت ناساز چلی آرہی تھی۔لیکن پچھلے دنوں طبیعت زیادہ خراب ہونے کے باعث چار روز پیشتر آپ بغرض علاج ربوہ سے لاہور تشریف لے گئے تھے۔جہاں آپ ۱۹ فروری کی صبح کو اس جہان فانی سے رحلت فرما کر مولائے حقیقی سے جاملے۔اسی روز آپ کا جنازہ لاہور سے ربوہ لایا گیا۔اور آپ آج مؤرخہ 20 فروری کو نماز جنازہ کے بعد بہشتی مقبرہ میں سپردخاک کر دیئے گئے۔اگر چہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوے پر بذریعہ خط پہلے ہی ایمان لا چکے تھے لیکن دستی بیعت کا شرف آپ کو مشرقی افریقہ سے واپسی پر جہاں بسلسلہ ملازمت آپ تشریف لے گئے ہوئے تھے 1901ء میں حاصل ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز سے آپ کو بے انتہا عشق تھا۔دعاؤں اور ذکر الہی میں شغف کے لحاظ سے آپ جماعت میں ایک خاص مقام رکھتے تھے۔ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد غالباً 1948 ء میں ہجرت کر کے قادیان آگئے تھے۔بقیہ عمر آپ نے قادیان اور ربوہ میں بسر کی۔ایسے دیندار متقی اور باخدا بزرگ کی وفات جماعت کے لئے بہت بڑے صدمہ کا موجب ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ حضرت ڈاکٹر صاحب مرحوم و مغفور کے درجات بلند فرمائے اور اپنے خاص مقام قرب سے نوازے۔آپ کے پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے اور ان کا دین و دنیا میں ہر طرح حامی و ناصر ہو۔آمین روزنامه الفضل ربوہ 21 فروری 1957ء)