مضامین بشیر (جلد 3) — Page 405
مضامین بشیر جلد سوم فضل عمر ہسپتال ربوہ کیلئے چندہ کی تحریک 405 دوستوں کو چاہئے کہ اس کارخیر میں بڑھ چڑھ کر اور پوری فیاض دلی سے حصہ لیں عزیزم ڈاکٹر مرزا منور احمد سلمہ نے زیر تعمیر فضل عمر ہسپتال ربوہ کے لئے چندہ کی اپیل کی ہے۔یہ ایک بہت مبارک تحریک ہے۔جو مرکز سلسلہ کی ترقی اور خدمت خلق کے جذبہ سے معمور ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ الْعِلْمُ عِلمَان عِلْمُ الْأدْيَانِ وَعِلْمُ الْأَبْدَانِ یعنی علم حقیقتاً صرف دوشاخوں میں منقسم ہوتا ہے۔ایک روح یعنی دین و مذہب کی شاخ اور دوسرے مادہ یعنی انسان کی جسمانی ضروریات کی شاخ۔سوروح کی ضروریات کے لئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے غیر معمولی فضل سے ربوہ میں سارے ضروری سامان مہیا فرما دیئے اور غیر معمولی ترقی عطا کی۔بلکہ کام کی سہولت کے لئے ریل، پختہ سڑک ، ڈاک، تار بجلی اور بالآخر ٹیلیفون کا انتظام بھی ہو گیا ہے۔مگر علم کا دوسرا میدان ابھی تک بہت کچھ قشنہ تکمیل ہے۔بے شک ربوہ میں ایک ہسپتال موجود ہے اور وہ اپنے وسائل کے لحاظ سے اچھا کام کر رہا ہے۔مگر اس ہسپتال کو کسی صورت میں مثالی ہسپتال نہیں کہا جاسکتا۔کیونکہ عمارت اور سامان اور عملہ وغیرہ کے لحاظ سے ابھی بہت کچھ ہونے والا ہے۔چنانچہ اب حضرت خلیفہ اسیح الثانی ید اللہ بنصر والعزیز کے ارشاد کے ماتحت عزیز ڈاکٹر مرزانوراحمد سلمہ نے ربوہ میں نئے ہسپتال کی پختہ عمارت شروع کی ہے اور اس عمارت کی تکمیل اور اس کے ضروری سامان کے واسطے دوستوں سے خاص چندہ کی اپیل کی ہے۔اور عجیب بات ہے کہ جماعت کے ایک قدیم بزرگ نے انہی ایام میں خواب دیکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس اپیل پر بہت خوشی کا اظہار فرما رہے ہیں اور ہسپتال کی تکمیل اور ترقی اور اس کی تفاصیل میں بہت دلچسپی لے رہے ہیں۔پس یہ ایک بہت مبارک تحریک ہے اور اس مختصر نوٹ کے ذریعہ، میں دوستوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس کارِ خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔مرکز سلسلہ کی تو یہ حیثیت ہے کہ اگر صرف خلیفہ وقت کی اکیلی ذات کے لئے ہی ایک عمدہ اور اپ ٹو ڈیٹ ہسپتال قائم کرنا پڑے تو جماعت کو اسے اپنا مقدس فرض سمجھ کر پورا کرنا چاہئے۔مگر یہاں حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے وجود باجود کے علاوہ کثیر التعداد قدیم صحابہ اور سلسلہ کے چوٹی کے کارکن اور ممتاز بزرگ اور ہزاروں قیمتی جانوں کا سوال ہے اور پھر ایک اچھا ہسپتال مرکز کی غیر معمولی نیک