مضامین بشیر (جلد 3) — Page 388
مضامین بشیر جلد سوم 388 کے قدموں میں ڈال دے گا اور فتنہ پیدا کرنے والے اشرار دیکھتے کے دیکھتے رہ جائیں گے۔اور دوسرے فریق کو جو بزعم خود بعض لوگوں کے متعلق کہہ رہا تھا کہ ہم صرف انہی کو خلیفہ مانیں گے۔انہیں آپ نے اس طرح للکارا کہ تم خدا کے مقابل پر خلیفہ گرکب سے بنے ہو؟ اگر خدا کی تقدیر ان لوگوں کی خلافت کے حق میں ہوئی تو تمہارے جیسے فتنہ پرداز لوگ ہزار سر پیٹیں اور ایڑھی چوٹی کا زور لگا دیکھیں وہ ہرگز خلیفہ نہیں بن سکیں گے اور خلیفہ وہی بنے گا جو منظورِ خدا ہوگا۔پس یہ ایک اصولی اور مساویانہ رنگ کا جواب تھا جو جماعت کے مسلّمہ عقیدہ کے مطابق حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ نے ہر دو قسم کے معترضوں کو ان کے مخصوص اعتراضوں کی روشنی میں دیا اور اس حکیمانہ جواب کے ذریعہ جماعت کو ایک خطرناک فتنہ میں مبتلا ہونے اور ایک واضح اسلامی مسلک سے انحراف کرنے سے بچالیا۔اس میں کسی شخص کی پاسداری اور کسی شخص کی مخالفت کی نیت تلاش کرنا اسی قسم کی خطر ناک بدظنی ہے جس کے متعلق کہا گیا ہے کہ اِنَّ بَعْضَ الظَّن اثم (الحجرات: 13)۔جب حضور کے عقیدہ کے مطابق خلیفہ خدا بناتا ہے اور کسی خلیفہ کی زندگی میں آئندہ خلیفہ کی بحث اٹھانا اور لوگوں میں اس کا چرچا کرنا اسلامی نظریات کے مطابق ایک ناجائز فعل ہے اور حضور کی طرف یہ کوشش منسوب کرنا کہ حضور نے نعوذ باللہ ہوشیاری کے رنگ میں ایک شخص کو آگے لانے اور بعض دوسرے لوگوں کو پیچھے ہٹانے کی سازش کی ہے ایک انتہائی قسم کی جسارت ہے جس کی کوئی سچا مومن جرات نہیں کر سکتا۔حضور کا جواب عین اسلامی تعلیم کے مطابق دونوں قسم کے معترضوں کے لئے مساویانہ رنگ رکھتا ہے۔جن لوگوں نے یہ کہا کہ ہم فلاں شخص کو خلیفہ نہیں بننے دیں گے ان کے لئے اسلام کا جواب اور قرآن کا جواب اور حدیث کا جواب یہی ہے کہ جب خلیفہ خدا بناتا ہے تو تم کون ہوتے ہو کہ کسی کی خلافت میں روک بن سکو؟ اور جن لوگوں نے یہ کہا کہ ہم صرف فلاں شخص کو خلیفہ مانیں گے ان کے لئے اسلام اور قرآن اور حدیث کا یہی جواب ہے کہ جب خلافت خدا کی مشیت کے ماتحت قائم ہوتی ہے تو تمہارے ہاتھ میں خلیفہ گری کے اختیارات کب سے آئے ہیں؟ مگر افسوس ہے کہ جن لوگوں کے دل میں بیماری ہے اور ان کے قلوب اسلامی حقائق سے خالی ہیں انہوں نے حضور کے ان حکیمانہ جوابوں کو ایک فریق کے حق میں پاسداری اور دوسرے لوگوں کے متعلق مخالفت کا رنگ دے کر حضور پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی ہے۔وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ (الشعراء:228) ہاں ان دونوں قسم کے معترضین کے جواب میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے مساویانہ ارشاد کے باوجود