مضامین بشیر (جلد 3) — Page 387
مضامین بشیر جلد سوم ہوں گئے 387 میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کے مظہر (رساله الوصیت روحانی خزائن صفحہ 306) گویا خلفاء بظاہر مومنوں کے منتخب کردہ ہونے کے باوجود حقیقتاً خدا کے مقرر کردہ اور اس کے منظور نظر ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ خدا کی قدرت ثانیہ کے مظہر قرار پاتے ہیں۔اب اگر اس پس منظر کی روشنی میں جو حضرت خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اور جماعت مبائین کا قدیم سے غیر متزلزل عقیدہ رہا ہے۔دوسرے اعتراض کا تجزیہ کیا جائے تو یہ اعتراض خس و خاشاک کی طرح اڑ جاتا ہے۔اعتراض یہ ہے کہ نعوذ باللہ حضرت خلیفہ ایسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے اپنے حالیہ اعلانات اور خطبات میں سلسلہ احمدیہ کی آئندہ خلافت کے متعلق ایک مخصوص فرد کے حق میں بعض معنی خیز اشارات کئے ہیں اور گویا جماعت کی رائے کو اس کے حق میں ہموار کرنے کی کوشش کی ہے اور دوسری طرف بعض دوسرے افراد کے خلاف اشارات کر کے جماعت کی توجہ کو ان کی طرف سے ہٹانے کی سعی فرمائی ہے۔کاش اعتراض کرنے والے لوگ اس بات کو مد نظر رکھتے ہ حضرت خلیفہ اصسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے یہ باتیں از خود نہیں کہیں بلکہ بعض فتنہ پردازوں کے ناپاک بیانوں کے جواب میں کہی ہیں۔ان فتنہ پردازوں نے جہاں ایک شخص کا نام لے کر یہ کہا ہے کہ ہم موجودہ خلیفہ کے بعد فلاں شخص کو خلیفہ نہیں بنے دیں گے وہاں بعض دوسرے لوگوں کے متعلق یہ کہا ہے کہ ہم فلاں فلاں لوگوں کو خلیفہ بنائیں گے۔اب ( خدا حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی زندگی کو لمبی سے لمبی کرے ) یہ دونوں باتیں ہمارے عقیدہ کے مطابق اسلامی خلافت کے صحیح نظریہ کے سراسر خلاف اور انتہائی فتنہ انگیزی کے عصر سے معمور ہیں اور ضروری تھا کہ ان دونوں باتوں کا منہ توڑ جواب دیا جاتا تا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قائم کردہ جماعت خلافتِ اسلامی کے اس مرکزی نقطہ پر قائم رہتی جس پر اسے شروع سے قائم رکھا گیا ہے اور تا جماعت کے بعض سادہ طبع لوگوں میں اس باطل خیال کی وجہ سے کسی قسم کے انتشار یا پریشان خیالی کی صورت نہ پیدا ہوتی۔اس لئے حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اپنی خاص حکیمانہ شان اور اپنے مخصوص جلالی رنگ میں ان دونوں قسم کے باطل خیالات کا تار و پود بکھیر کر رکھ دیا۔جو لوگ ایک خاص فرد کے خلاف یہ بکواس کر رہے تھے کہ ہم اسے خلیفہ نہیں بننے دیں گے آپ نے فرمایا کہ تم کسی کی خلافت میں روک ڈالنے والے کون ہوتے ہو؟ اگر میرے بعد خدا تعالیٰ کی مشیت اسی شخص کو خلیفہ بنانے کے حق میں ہوئی تو خدا تعالیٰ لوگوں کو ان کی گردنوں سے پکڑ کر اس