مضامین بشیر (جلد 3) — Page 375
مضامین بشیر جلد سوم 375 طرح ٹھو کر کھائی کہ مہم بنتے بنتے قعر مذلت میں جا گرا۔پس مقام شکر بھی ہے اور مقام خوف بھی۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ اسلامی روحانیت کا خلاصہ تقویٰ اور دعا ہے۔یہ دونوں چیزیں روحانیت کی جان ہیں۔ہماری جماعت کو عموماً اور ہمارے جوانوں کو خصوصاً ان دو باتوں کی طرف خاص توجہ دینی چاہئے۔وہ اپنے دل میں تقویٰ پیدا کریں جو نیکی کی روح اور اعمال صالحہ کی جڑ ہے اور وہ دعاؤں کی عادت ڈالیں جو خدا کے ساتھ ذاتی تعلق پیدا کرنے کا ذریعہ ہیں اور اپنی دعاؤں میں ایسا سوز و گداز پیدا کریں اور خدا کے دامن سے اس طرح لپیٹیں کہ اس کی رحمت انہیں گھیر لے اور وہ لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الآخِرَةِ (يونس: 65) کے بچے مصداق بن جائیں اور پھر وہ اپنی اولاد کی بھی ایسے رنگ میں تربیت کریں کہ ان کے بعد وہ بھی ان نعمتوں کے حامل بنیں تا یہ سلسلہ قیامت تک چلتا چلا جائے اور جماعت کی روحانیت نہ صرف قائم رہے بلکہ اس کا ہر بعد کا قدم پہلے قدم سے آگے اٹھے اور برابر اٹھتا چلا جائے۔جیسا کہ میں نے شروع میں بیان کیا ہے اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کم ہوتے جاتے ہیں اور بہت ہی تھوڑے رہ گئے ہیں۔پس نو جوانوں کا فرض ہے کہ وہ آگے آکر ان کی جگہ لیں اور تقویٰ اور دعاؤں کی عادت میں اتنی ترقی کریں کہ صحابہ کی طرح خدا کے تازہ بتازہ نشانوں کے مورد بن جائیں۔ان کے کانوں میں خدا کی آواز گونجے اور ان کے ہونٹوں پر خدا کا کلام نازل ہو اور ان کے قلوب خدا کی رحمت اور اس کی محبت اور اس کی برکات کا گہوارہ بن جائیں۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔میں نے یہ مضمون بیماری کی حالت میں تکلیف کے ساتھ اپنے قلم سے لکھا ہے۔خدا کرے کہ اسے وہ تاثیر اور وہ مقبولیت حاصل ہو جو خدا کی طرف سے آتی ہے اور جماعت کے نوجوانوں میں ایک نیک تبدیلی پیدا ہو جائے۔اور میرے لئے بھی ثواب اور مغفرت کا موجب ہو۔آمِينَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ محرره 22 جون 1956ء ) روزنامه الفضل ربوہ 26 جون 1956ء) فتنہ منافقین اور خلافت حلقہ حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے حالیہ اعلانات سے جماعت احمدیہ، منافقوں