مضامین بشیر (جلد 3) — Page 370
مضامین بشیر جلد سوم 370 کچھ طاقت آئے تو جماعت کے نوجوانوں میں تحریک کروں کہ وہ اپنے اندر تقویٰ اللہ اور دعاؤں کی عادت پیدا کر کے گزرنے والے صحابہ کی جگہ لینے کی کوشش کریں تا جماعت میں کوئی خلا نہ پیدا ہونے پائے اور جماعت کا قدم ہر آن ترقی کی طرف اٹھتا چلا جائے اور جماعت کی روحانیت ہمیشہ اعلیٰ مقام پر فائز رہے۔چنانچہ اپنے اس خیال بلکہ غیبی تحریک کے ماتحت میں نے مسجد مبارک ربوہ کے امام صاحب کو بھی ایک دن تحریک کی کہ وہ اس کے متعلق جمعہ میں خطبہ دیں اور جماعت کے نوجوانوں میں تقویٰ اللہ اور دعاؤں کی عادت پیدا کرنے کی طرف توجہ دلائیں اور ساتھ ہی مولوی ابوالعطاء صاحب کو تاکید کی کہ وہ اپنے مضامین اور تقریروں میں بھی اس کا خیال رکھیں۔تا جماعت کی صف دوم صف اول کی قائم مقام بننے کے لئے تیار ہو سکے اور خاص عبادت گزاروں اور دعا گوؤں اور اصحاب کشف والہام کا سلسلہ جماعت میں تا قیامت جاری رہے اور اگر سب نہیں تو کم از کم ایک طبقہ ہی اس مبارک مقام پر فائز رہ کر جماعت میں روحانی زندگی کے چمکتے ہوئے آثار قائم رکھ سکے۔میں ان خیالات میں ہی غرق تھا کہ اچانک الفضل کی اشاعت مؤرخہ 22 جون 1956ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کا ایک تازہ خطبہ نظر سے گزرا۔یہ خطبہ حضور نے یکم جون کو مری میں دیا تھا اور اس میں بعینہ وہی مضمون بیان کیا گیا ہے جس کے متعلق میں اپنی بیماری میں سوچتا رہا ہوں۔دوستوں کو چاہئے کہ اس خطبہ کو بڑی توجہ کے ساتھ پڑھیں اور اسے تمام احمدی مسجدوں میں جمعہ کے خطبہ کے طور پر سنایا جائے اور جماعت کو اس کے مضامین کی طرف بار بار توجہ دلائی جائے اور کثرت تکرار کے ذریعہ اسے احمدی نو جوانوں کے دلوں میں اس طرح راسخ کر دیا جائے کہ وہ گویا ان کے جسم کا حصہ بن جائے اور ایک مبارک بیج کے طور پر ان کے دل و دماغ میں بو دیا جائے۔دراصل اسلام کے احکام سینکڑوں ہیں مگر روحانیت کا خلاصہ دو باتوں میں آجاتا ہے۔ایک تقویٰ اللہ اور دوسرے دعاؤں میں شغف۔تقوی گویا ذاتی پاکیزگی اور طہارت کے لئے بطور جڑھ کے ہے اور دعاؤں کی عادت اور دعاؤں میں شغف خدا کے ساتھ ذاتی تعلق کا بنیادی ستون ہے۔نماز ، روزہ ، زکوۃ وغیرہ بیشک سب اعلیٰ درجہ کے نیک اعمال ہیں مگر نیکی کی جڑھ تقویٰ ہے۔جو گویا اعمال کے ظاہری جسم کے مقابل پر روح کا حکم رکھتی ہے۔اسی لئے خدا تعالیٰ نے تقویٰ کا صدر مقام دل کو قرار دیا ہے۔جیسا کہ فرمایا ذَالِكَ مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ اور اس کی تشریح میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ہر ایک نیکی کی جڑ یہ اتقا ہے اگر جڑ رہی رہا ہے