مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 352 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 352

مضامین بشیر جلد سوم 352 کرتا ہوں اور میں امید کرتا ہوں کہ میرے ان اجمالی اشارات پر غور کرنے سے سمجھدار دوست انشاء اللہ اس بظاہر الجھن والے معاملہ میں دلی تسلی اور قلبی اطمینان کا سامان پاسکیں گے۔وَمَا تَوْفِيقِی إِلَّا بِاللَّهِ الْعَظِيمِ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ جیسا کہ واقف کار لوگ جانتے ہیں بعض چشموں میں قدرتی طور پر ایسے کیمیاوی اجزاء پائے جاتے ہیں جو بعض خاص قسم کی بیماریوں کو اچھا کرنے اور شفا دینے کی نمایاں خاصیت رکھتے ہیں۔چنانچہ بعض پانیوں میں گندھک کی آمیزش ہوتی ہے اور بعض میں مائیکا ملی ہوئی ہوتی ہے اور بعض میں کلورین کا اختلاط ہوتا ہے اور بعض میں اور اور قسم کے نمکیات کی ملاوٹ ہوتی ہے اور بعض میں ایک سے زیادہ اجزاء کا خمیر ہوتا ہے اور جس طرح مختلف قسم کی دوائیاں مختلف قسم کی بیماریوں کو شفا دینے کی اہلیت رکھتی ہیں۔اسی طرح ایسے چشموں میں بھی یہ قدرتی تاثیر ہوتی ہے کہ ان میں نہانے والا یا ان کا پانی پینے والا مختلف قسم کی بیماریوں سے شفا پا جاتا ہے اور یہ قدرت کا ایک عام فعل ہے جس سے کوئی واقف کار شخص انکار نہیں کر سکتا۔چنانچہ بائبل سے ثابت ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانہ میں بھی فلسطین کے ملک میں ایک ایسا تالاب ہوتا تھا جس میں نہانے سے کئی قسم کی بیماروں کو شفا ہو جاتی تھی۔پس اگر فرانس اور سپین کی سرحد پر بھی اس قسم کا کوئی قدرتی چشمہ ظاہر ہو کر مختلف قسم کے بیماروں کو شفا دیتا ہوتو ہرگز تعجب کی بات نہیں اور نہ اس میں مسیحی لوگوں کے لئے کوئی فخر کی بات ہے۔ایسے قدرتی چشمے پاکستان اور ہندوستان کے بعض حصوں میں بھی پائے جاتے ہیں جن میں بعض خاص قسم کی بیماریوں خصوصاً جلدی بیماریوں کو اچھا کرنے کی نمایاں تاخیر پائی جاتی ہے اور کوئی دانا شخص انہیں اپنے یا کسی دوسرے مذہب کا معجزہ بنا کر مشہور نہیں کرتا پھرتا اور فرانس کے مذکورہ بالا چشمہ کا یہ پہلو کہ اس میں نہا کر بعض اچھے نہیں ہوتے اس کی حقیقت کو اور بھی زیادہ نمایاں کر رہا ہے کہ اس کا اثر عام دوائیوں کی طرح ہے جو کبھی نشانہ پر بیٹھتی ہیں اور کبھی خطا بھی کر جاتی ہیں۔اس سوال کا دوسرا اور اصولی جواب یہ ہے کہ گو یہ درست ہے کہ اس زمانہ میں اسلام ہی خدا کی طرف سے سچاند ہب ہے اور دوسرے مذاہب محترف و مبدل ہو کر اپنا وقت گزار کر یا آؤٹ آف ڈیٹ" Out of Date‘ ہوکر زندگی کی روح کو کھو چکے اور خدائی نصرت سے محروم ہو چکے ہیں۔مگر باوجود اس کے ہم نے کبھی یہ دعوی نہیں کیا اور نہ کر سکتے ہیں کہ دوسری قومیں دعا کی قبولیت اور خدا کی رحمت کے حصول سے کلّی طور پر محروم ہیں۔اسلام کا خدا تو رب العالمین ( یعنی تمام قوموں اور تمام انسانوں کا خدا) ہونے کا مدعی ہے اور ظاہر ہے کہ اگر وہ دوسری قوموں کے تعلق سے بجا طور پر کٹ چکا ہو تو وہ رب العالمین نہیں کہلا سکتا۔اس کا رب العالمین ہونا اس بات کا متقاضی ہے کہ کبھی کبھی اس کی وسیع رحمت کا چھینٹا دوسری قوموں پر بھی پڑتا ر ہے اور وہ اس کی