مضامین بشیر (جلد 3) — Page 346
مضامین بشیر جلد سوم 346 بات سے بات نکلتی ہے اور خیال پر خیال جمتا ہے اور خلافت اولی سے خلافت ثانیہ کی طرف خیال منتقل ہونا ایک طبعی امر ہے۔سوجیسا کہ پہلے بھی لکھ چکا ہوں میں رمضان کے اس مبارک مہینہ میں احباب جماعت سے پر زور تحریک کرتا ہوں کہ وہ اس مہینہ کی مخصوص تضرعات میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی صحت اور درازی عمر اور بیش از پیش خدمات اور روز افزوں برکات کے لئے خدا کے حضور دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے مبارک سایہ کو جماعت کے سروں پر لمبے سے لمبا کرے اور آپ کے وجود میں وہ تمام وعدے اپنی کامل شان و شوکت کے ساتھ پورے ہوں جو آپ کی موعود خلافت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان مبارک پر فرمائے تھے اور آپ کی قیادت میں جماعت کا قدم ہر آن ان عظیم الشان مقاصد کے حصول کی طرف بڑھتا چلا جائے جو اس کے لئے ازل سے مقدر ہیں۔اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدموں کے طفیل اس خاکسار راقم آثم کو بھی نیکی اور تقویٰ کے مقام پر قائم ہوتے ہوئے اسلام اور احمدیت کی مقبول خدمت کی توفیق نصیب ہو۔وَاخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ( محررہ 20 اپریل 1956ء)۔۔۔۔۔۔۔۔روزنامه الفضل ربوہ 24 اپریل 1956ء) 10 ایک غلط فہمی کا ازالہ الفضل مؤرخہ 24 اپریل 1956ء میں مولوی عبدالسلام صاحب عمر مرحوم کی وفات پر میرا ایک نوٹ شائع ہوا ہے جس میں حضرت خلیفہ امسیح الاول کے متعلق یہ الفاظ درج ہیں کہ : حقیقتاً حضرت خلیفہ اول کا مقام تو کل اور مقام زہد و تصوف عدیم المثال تھا“ ان الفاظ کے متعلق ایک صاحب لکھتے ہیں کہ ان سے یہ غلط نبی پیدا ہوتی ہے کہ نعوذ باللہ اس معاملے میں خلیفہ اول کا مقام حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور دیگر انبیاء سے بھی بالا تھا۔مجھے تعجب ہے کہ یہ غلط نبی کس طرح پیدا ہوئی جبکہ ہر زبان میں اس قسم کے محاورے شائع شدہ اور متعارف ہیں کہ بعض اوقات اختصار کی غرض سے یا عبارت کی روانی میں بعض الفاظ مطلق رنگ میں استعمال کئے جاتے ہیں مگر قرائن اور دیگر حالات سے یہ بات بالکل واضح اور عیاں ہوتی ہے کہ ان کا مفہوم مقید اور محدود ہے نہ کہ مطلق اور غیر محدود۔جیسا کہ